مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بعض تنصیبات یمن کی حالیہ میزائل کارروائیوں کے نتیجے میں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ان نقصانات کی مرمت میں کئی ماہ لگنے کا امکان ہے۔
اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریاض ایئرپورٹ کا ترقیاتی منصوبہ متوقع تاخیر کا شکار ہوگیا ہے، کیونکہ یمن کی حالیہ کارروائیوں کے بعد ہوائی اڈے پر تعمیراتی سرگرمیوں کا ایک حصہ روک دیا گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسافر طیاروں نے بڑی حد تک ریاض ایئرپورٹ کا رخ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایک باخبر ذریعے نے بھی بتایا ہے کہ خطے میں فضائی آمدورفت کی سلامتی سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔
اخبار نے مزید نشاندہی کی ہے کہ ریاض کے لیے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کی مسلسل معطلی اور کانفرنسوں و دیگر تقریبات کا آئندہ سال تک ملتوی ہونا سعودی عرب کی اقتصادی تنوع کی کوششوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ یہ کوششیں بڑی حد تک ہوا بازی، سیاحت، سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں پر انحصار کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ریاض میں مقیم بعض اعلی کاروباری عہدیدار فضائی سفر میں بے یقینی اور خطرات کے پیش نظر دیگر علاقائی ممالک جانے کے لیے طویل زمینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ