مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیلاروس، برکینا فاسو، چین، کیوبا، اریٹیریا، ایران، نکاراگوا، نائجر، پاکستان، روس، تاجکستان اور زمبابوے نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی کے 81ویں اجلاس میں جوہری مقامات اور تنصیبات پر حملوں یا حملوں کی دھمکیوں کی مخالفت پر مبنی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
ان 12 ممالک نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں زور دیا ہے کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی معاہدوں کے تحت آنے والی اور پرامن مقاصد کے لیے مختص جوہری تنصیبات کو کسی بھی حالت میں حملے یا حملے کی دھمکی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر و ناظم الامور غلام حسین درزی نے جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی کے اجلاس میں یہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ اعلامیے میں آٹھ نکات شامل ہیں، جن میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور جوہری تنصیبات کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے پہلے نکتے میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مقاصد کی مکمل اور مؤثر تکمیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایجنسی کا قانونی مشن دنیا بھر میں امن، صحت اور خوشحالی کے لیے جوہری توانائی کے کردار کو تیز اور وسیع کرنا ہے۔ اس کے ساتھ تمام ممالک کے اس ناقابل تنسیخ حق کی توثیق کی گئی ہے کہ وہ بلاامتیاز پرامن مقاصد کے لیے جوہری تحقیق، پیداوار اور استعمال کو فروغ دے سکتے ہیں۔
دوسرے نکتے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 487، جو 1981 میں منظور کی گئی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے جوہری تنصیبات پر فوجی حملوں کی شدید مذمت کو یاد دلایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس کی متعلقہ قراردادوں اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایجنسی کی نگرانی میں پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مخالفت بین الاقوامی برادری کا دیرینہ مؤقف ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا یا حملے کی دھمکی دینا اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے اقدامات جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مقاصد اور اصولوں سے بھی بنیادی طور پر متصادم ہیں۔
چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے جوہری تحفظ اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے حملے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کی سالمیت، مؤثریت اور ساکھ کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
اعلامیے کے پانچویں نکتے میں خبردار کیا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں سے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال اور بین الاقوامی تعاون پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے حملوں کے نتیجے میں تابکار مادوں کا اخراج بھی ہوسکتا ہے، جس کے متعلقہ ملک کے اندر اور باہر سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سے شہری آبادی متاثر ہو سکتی ہے اور ماحول کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
چھٹے نکتے میں کہا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف خاموشی اختیار کرنے سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصول کمزور ہوتے ہیں، عالمی قانونی نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے اور ایسے حملوں کو معمول کا عمل سمجھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ساتویں نکتے میں مشترکہ طور پر اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں حملے یا حملے کی دھمکی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اعلامیے کے آخری نکتے میں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری تنصیبات پر حملوں اور حملوں کی دھمکیوں کی واضح مخالفت کریں، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کی سالمیت اور ساکھ برقرار رکھنے میں تعاون کریں، جوہری تحفظ اور سلامتی کو مضبوط بنائیں اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال اور بین الاقوامی تعاون کا تحفظ یقینی بنائیں۔
آپ کا تبصرہ