مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے آج کے مظاہروں میں 3 لاکھ 20 ہزار افراد شریک ہوئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، پیرس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فرانسیسی سکیورٹی فورسز اور پولیس نے عوامی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ آج ملک بھر میں عوامی احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 15 ہزار افراد شریک ہوئے ہیں۔
الجزیرہ کے نامہ نگار نے بھی اطلاع دی تھی کہ شمالی فرانس کے شہر لیون کی سڑکوں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
فرانسیسی طلبہ انجمنوں نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاج کے سلسلے میں منگل سے جامعات اور ہائی اسکولوں کی بندش اور ناکہ بندی دوبارہ شروع کی جائے گی۔
بی ایف ایم ٹی وی نے آج رپورٹ دی کہ طلبہ انجمن کے ترجمان نے اسکولوں اور جامعات کے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کی ناکہ بندی کے لیے طلبہ تنظیموں اور مشترکہ یونین اتحاد کی اپیل پر لبیک کہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو بھی ہم تعلیمی اداروں کو دوبارہ بند کریں گے، جس کے بعد 5 نومبر کو ان مظاہروں میں شرکت کریں گے جن کی اپیل ہڑتال کرنے والے مزدوروں نے کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو امید ہے کہ اس بار احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تعداد میں لوگ شریک ہوں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ان کے مطالبات جائز ہیں۔
آپ کا تبصرہ