مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسعد الشیبانی نے ہفتے کے روز ’’منامہ ڈائیلاگ 2026ء‘‘ کے تحت منعقدہ علاقائی سلامتی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے مسلسل حملوں کے پیش نظر شام سے سرحدوں پر کنٹرول اور اسلحے کو صرف ریاست کے اختیار میں رکھنے کا مطالبہ کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ شام ہر روز حملوں کا نشانہ بن رہا ہے؟
انہوں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے 8 دسمبر 2024ء سے پہلے کی سرحدی پوزیشن پر واپسی اور 1974ء کے فوجی علیحدگی کے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
الشیبانی نے مزید زور دیا کہ جولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ ہیں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 اس معاملے پر شام کے مؤقف کی بنیاد ہے۔
واضح رہے کہ 8 دسمبر 2024ء کو شام کی سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے 1974ء کے فوجی علیحدگی کے معاہدے کے تحت قائم شام کے بفر زون پر قبضہ کر لیا اور اس علاقے کے اندر اور باہر فوجی ٹھکانے قائم کیے۔ اقوام متحدہ نے اس اقدام کو مذکورہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ