مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایران کے وزیر زراعت غلام رضا نوری قزلجہ نے تہران میں منعقدہ پہلی ایران۔افریقہ زرعی تعاون کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افریقی ممالک کے ساتھ ایران کی تجارت کا موجودہ حجم، جو 940 ملین ڈالر ہے، اس براعظم کی وسیع اقتصادی منڈی اور تجارتی امکانات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے اور اسے بڑے پیمانے پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور افریقی ممالک کے پاس باہمی تجارتی تبادلوں کو فروغ دینے کی وسیع صلاحیتیں موجود ہیں، جن سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
نوری قزلجہ نے اقتصادی تعلقات میں نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی سطح پر کیے جانے والے وعدوں کو عملی منصوبوں اور مشترکہ سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دونوں فریقوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران افریقہ کو محض اپنی مصنوعات کی فروخت کی منڈی نہیں بلکہ پیداوار اور ترقی کے شعبوں میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔
ایرانی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ ایران کے پاس آبپاشی کے انتظام، گرین ہاؤسز کی تعمیر، زرعی مشینری، بیجوں کی پیداوار، مویشیوں اور پولٹری فارمنگ، ویکسین سازی اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت ہے، جبکہ افریقی ممالک کے پاس گرم مرطوب علاقوں کی زرعی پیداوار، ماہی گیری اور تیزی سے وسعت پاتی ہوئی منڈیوں کے حوالے سے وسیع امکانات موجود ہیں۔
آپ کا تبصرہ