مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تھائی لینڈ کی 20 سے زائد مقامی تنظیمیں نے جزیرہ پوکٹ میں اسرائیلی حکومت کی موجودگی اور صیہونی تحریک ’’حباد‘‘ سے وابستہ اداروں کی سرگرمیوں کے خلاف مظاہرہ کیا اس مظاہرے میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی۔
عبرانی چینل 12 کے مطابق، مظاہرہ پوکٹ شہر کے ساوان ہین پارک میں ہوا؛ اس میں تھائی لینڈ کی معروف سیاسی شخصیت اور سابقہ ’’زرد قمیص‘‘ احتجاجی تحریک کے رہنما سندی لیمتھونگکول نے شرکت کی ۔ احتجاجی رہنماؤں نے تھائی لینڈ سے حباد تحریک سے وابستہ عناصر کو نکالنے اور صیہونی نیٹ ورک کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حباد تحریک سے وابستہ عناصر تھائی لینڈ میں غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ملک کے اثاثوں اور املاک پر قبضہ کر رہے ہیں۔ تاہم، چینل 12 کے مطابق، تاحال کسی نئے اور مخصوص سکیورٹی خطرے کی اطلاع سامنے نہیں آئی اور تھائی پولیس نے مظاہرے سے قبل غیر معمولی حفاظتی اقدامات بھی نہیں کیے۔
عبرانی اخبار ’’یدیعوت آحارونوت‘‘ نے بھی رپورٹ دی ہے کہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک اور جزیرہ پوکٹ میں گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔ اخبار کے مطابق، اسرائیلی سیاحوں اور تاجروں کی جانب سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر بھی تھائی لینڈ میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
گزشتہ ستمبر میں بھی جزیرہ پوکٹ میں حباد کے ایک مرکز کے قریب احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث سینکڑوں اسرائیلیوں کی شرکت سے منعقد ہونے والی ایک تلمودی ضیافت منسوخ کر دی گئی تھی۔
حباد تحریک کا تعارف
حباد، جسے ’’حباد لوباوویچ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، دنیا کی بڑی افراطی حسیدی یہودی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کی بنیاد 1788ء میں ربی شنئور زلمان ملادی نے اس علاقے میں رکھی تھی جو آج بیلاروس کا حصہ ہے۔
اس تحریک نے اپنا نام لوباوویچ نامی شہر سے حاصل کیا، جسے اس کا مرکز بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کی قیادت لٹویا اور پھر پولینڈ منتقل ہوئی، یہاں تک کہ 1940ء میں اسے امریکی شہر نیویارک کے علاقے بروکلین منتقل کر دیا گیا، جہاں آج بھی اس کا مرکزی صدر دفتر قائم ہے۔
’’حباد‘‘ تین عبرانی الفاظ کا مخفف ہے، جن کے معنی ’’حکمت، فہم اور علم‘‘ ہیں۔ یہ تحریک خود کو ایک فلسفے، تحریک اور تنظیم کے طور پر متعارف کراتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا بھر کے یہودیوں کی مادی و معنوی ضروریات پوری کرنے اور انہیں یہودی عقائد و مذہبی رسومات سے جوڑنے کے لیے سرگرم ہے۔
آپ کا تبصرہ