24 اکتوبر، 2026، 5:06 PM

واشنگٹن نے ایران میں بدامنی پھیلانے والوں کی اسٹارلنک کے ذریعے مدد کی

واشنگٹن نے ایران میں بدامنی پھیلانے والوں کی اسٹارلنک کے ذریعے مدد کی

سابق امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ایران میں اپنے مقاصد سے وابستہ عناصر کو اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کی تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے چھ سابق امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ کی مختلف حکومتیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مختلف ممالک میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کو فعال کرنے یا اسے بند کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ماضی میں اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک سے درخواست کی تھی کہ ایران کے اندر بدامنی پھیلانے والے عناصر اور واشنگٹن سے وابستہ افراد کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور اسٹارلنک تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے بعد ایران میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کی سیٹلائٹ مواصلاتی سہولتوں تک رسائی بڑھانے سے امیدیں وابستہ تھیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے ذریعے ایران کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنا ممکن نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے ملک کے اندر امریکہ سے وابستہ عناصر کو متحرک ہونا ہوگا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی انتظامیہ مختلف ممالک میں اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کو فعال کرنے یا بند کرنے کی درخواستیں کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین میں اسٹارلنک سروس فعال کرنے کی حمایت کی، جبکہ یمن اور لبنان میں ایران کے حامی گروہوں کے درمیان مواصلاتی رابطوں کو روکنے کے لیے اس سروس کی بندش کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل روس کے نائب وزیر خارجہ نے بھی ترقی پذیر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے لیے مغربی ممالک کے ذرائع اور طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی ممالک اسٹارلنک کے ذریعے مختلف ملکوں میں بدامنی پھیلاتے ہیں۔

News ID 1942330

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha