16 اگست، 2026، 9:22 PM

عرب ممالک میں امریکہ کے خلاف بڑھتا غصہ، ٹرمپ نے جنگ شروع کی اور قیمت ہم چکا رہے ہیں، واشنگٹن پوسٹ

عرب ممالک میں امریکہ کے خلاف بڑھتا غصہ، ٹرمپ نے جنگ شروع کی اور قیمت ہم چکا رہے ہیں، واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خلیج فارس کے عرب اتحادی امریکہ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی سے شدید ناراض ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ واشنگٹن کی غیر واضح حکمتِ عملی نے خطے کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عرب اور مغربی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے خلاف ناراضی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کے حکام اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور خطے میں سلامتی و استحکام کی ضمانت دینے کے لیے ضروری سیاسی راستہ اختیار کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تین امریکی حکام اور ایک سابق امریکی سفارت کار نے بتایا کہ کئی ماہ سے جاری جنگ اور ایران کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے تسلسل کے باعث خلیج فارس کے ممالک میں ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں شدید عدم اطمینان پیدا ہو چکا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ گزشتہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ ایران کے خلاف نئے حملوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں، لیکن بعد ازاں مذاکرات میں پیش رفت کا دعوی کرتے ہوئے ان دھمکیوں سے پیچھے بھی ہٹتے رہے ہیں۔ امریکی پالیسی میں اس اتار چڑھاؤ نے عرب ممالک کے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے پاس جنگ کے حوالے سے کوئی واضح اور مستقل حکمت عملی موجود نہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے ایک عرب عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ ٹرمپ نے یہ جنگ شروع کی اور ہم اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ مذکورہ عہدیدار کے مطابق فروری میں ایران پر حملے کے بعد خطے میں امریکہ کے خلاف غصہ اور ناراضی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ عرب ممالک اب بھی امریکہ کو اپنا اہم ترین سکیورٹی پارٹنر اور اسلحے کا بنیادی فراہم کنندہ سمجھتے ہیں، تاہم بعض ممالک اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی افادیت کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ جنگ کے براہ راست علاقائی اثرات کے باعث ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے عرب اتحادیوں کو یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ ایسی جنگ میں الجھ گئے ہیں جو ان کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں تھی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اب اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے یوریشیا گروپ میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ پروگرام کے ڈائریکٹر فراس مقصد کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے اور اسے پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

اسی طرح واشنگٹن میں قائم عرب ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ آنا جیکوبز کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ پر اعتماد میں کمی آئی ہے اور واشنگٹن کے اتحادی اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ خطے میں امریکی طرز عمل ان کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے کمزور کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے ممالک کے رویے میں یہ تبدیلی اس احساس کے بعد مزید نمایاں ہوئی ہے کہ جنگ نہ تو تیزی سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا باعث بنی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضمانت فراہم کر سکی۔

یوں عرب ریاستوں کے لیے اصل سوال اب صرف ایران کے خلاف جنگ نہیں بلکہ یہ بھی بن گیا ہے کہ کیا امریکہ کی موجودہ پالیسی واقعی ان کی سلامتی کا تحفظ کر رہی ہے یا وہ خود ایسی جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں جس کے فیصلے واشنگٹن میں کیے گئے تھے۔

News ID 1940707

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha