16 اگست، 2026، 9:21 PM

شہید رہبر کے اصولوں کے تحت عزت مندانہ معاہدہ کیا، دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، صدر پزشکیان

شہید رہبر کے اصولوں کے تحت عزت مندانہ معاہدہ کیا، دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، صدر پزشکیان

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ حالیہ معاہدہ عزت اور طاقت کے ساتھ، شہید رہبر کے طے کردہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا گیا اور ایران نے دشمنوں کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ حالیہ معاہدہ عزت اور طاقت کے ساتھ آگے بڑھا اور اس میں شہید رہبر انقلاب کے پیش نظر اصولوں کو مدنظر رکھا گیا۔ ان کے بقول، حکومت نے اس معاہدے کو پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا اور دشمنوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے محکمہ تعلیم کے سربراہان کے 39ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حالیہ معاہدے سمیت ملکی تعلیم، سماجی انصاف اور قومی ترقی کے مختلف امور پر گفتگو کی۔

انہوں نے انقلاب کے شہید رہبر اور میناب کے شہید طلباء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر ہمیشہ حکومت کی رہنمائی کرتے رہے۔ انہیں اور ایرانی طلباء کو دنیا کے سفاکوں اور جمہوریت کے جھوٹے دعوے داروں نے شہید کیا۔

ایرانی صدر نے اساتذہ، تعلیمی منتظمین اور معاونین کو ملک کے مستقبل کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں کام کرنے والے افراد مستقبل کی نسل کی فکری اور عملی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

پزشکیان نے قرآن فہمی سے متعلق اپنی جوانی کی ایک یاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی آیات کے مفاہیم کو گہرائی سے سمجھنے کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ کامیابی کے راستے پر چلنے کے لیے سب سے پہلے بچوں اور انسانوں کے ذہن میں درست معلومات اور فکری بنیاد تشکیل دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کی آیات انسان کو زندگی کا راستہ سکھاتی ہیں اور اگر انسان ان تعلیمات کی بنیاد پر زندگی گزارے تو وہ بلند ترین اہداف حاصل کرسکتا ہے۔

ایرانی صدر نے موجودہ صورتحال کو قبول کرکے رک جانے کو ملک کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے پاس بے شمار وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ مناسب کوشش کی جائے تو ایران کو دنیا کے کسی ملک سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے تعلیمی نظام میں طلبہ کو انصاف، کارکردگی، باہمی تعاون، اجتماعی شمولیت اور ٹیم ورک جیسے تصورات سکھانے پر زور دیا۔

ایرانی صدر نے خود اعتمادی کو ترقی کی پہلی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلند اہداف کے حصول کے لیے پہلے یہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی و انتظامی طریقوں میں تبدیلی، کارکردگی میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترقی کے اہم ذرائع قرار دیا۔

پزشکیان نے تعلیمی منتظمین اور اساتذہ سے کہا کہ موجودہ صورتحال کو حتمی نہ سمجھیں اور روایتی ذہنی سانچوں کو توڑیں، کیونکہ اسی صورت میں ایسے باصلاحیت اساتذہ اور منتظمین تیار کیے جاسکتے ہیں جو طلبہ کی صلاحیتوں کو دریافت کرکے انہیں پروان چڑھا سکیں۔

News ID 1940709

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha