مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی چینل سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے چھ ماہ بعد واشنگٹن کے ابتدائی مطالبات بتدریج اپنی اہمیت کھو رہے ہیں اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے دباؤ نے امریکی بحث کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے جنگ کا آغاز انتہائی بلند عزائم کے ساتھ کیا تھا۔ امریکی حکام ایران کی مکمل تسلیم، حکومت کی تبدیلی، تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور حزب اللہ سمیت خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے جیسے مطالبات پیش کر رہے تھے۔ تاہم جنگ کے چھٹے ماہ میں امریکی حکام کی جانب سے بیان کیے جانے والے اہداف میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے فاکس نیوز سے گفتگو میں توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو واشنگٹن کی موجودہ ترجیحات قرار دیا۔
ونس کے مطابق بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک عالمی معیشت کو تیل اور گیس کی فراہمی جاری رکھیں، تاکہ توانائی کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ترجیح پورے امریکہ میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا ہے، جبکہ دوسری ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
سی این این کے مطابق جے ڈی ونس کے بیان سے وائٹ ہاؤس کے سابقہ مؤقف میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ اس سے قبل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا جنگ کے خاتمے کی بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، جبکہ امریکی عوام کے لیے سستی توانائی کی فراہمی جنگ کے اعلان کردہ فوجی اہداف میں شامل نہیں تھی۔
نائب صدر کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی واضح کیا کہ دونوں اہداف ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ مؤقف اس سابقہ دعوے سے مختلف ہے جس میں ٹرمپ نے جنگ کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر امریکہ کے اندرونی معاشی حالات کے اثر کو براہ راست مسترد کیا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے سے پہلے آبنائے ہرمز کھلا ہوا تھا۔ اس لیے تیل اور گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا موجودہ امریکی ہدف عملی طور پر جنگ سے پہلے عالمی توانائی کی صورتحال بحال کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف میں تبدیلی مئی ہی سے نمایاں ہونا شروع ہوگئی تھی۔ جون میں امریکی حکومت نے ایران کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت بھی طے کی، جس میں واشنگٹن کے سابقہ اہم مطالبات کا تقریبا کوئی نمایاں ذکر موجود نہیں تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ متعدد مرتبہ دعوی کرچکے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام پہلے ہی شدید نقصان سے دوچار ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ایران کا افزودہ یورینیم انتہائی گہرائی میں دفن ہوسکتا ہے اور شاید اب اس تک رسائی ممکن نہ ہو۔
ایسی صورتحال میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں استحکام پر بڑھتا ہوا امریکی زور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے خاتمے کے لیے اب ان مطالبات سے کہیں محدود شرائط پر آمادہ ہو سکتی ہے جن کا اعلان جنگ کے آغاز میں بڑے زور و شور سے کیا گیا تھا۔
ٹرمپ ٹیم کی جانب سے اپنے ابتدائی سخت گیر مطالبات سے پسپائی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہا ہے۔ تہران کی مزاحمت اور جنگ کے دوران اس کے پاس موجود اہم اسٹریٹجک آپشنز، بالخصوص آبنائے ہرمز، نے واشنگٹن کے لیے جنگ کو اپنے ابتدائی اہداف کے مطابق آگے بڑھانا مشکل بنا دیا ہے۔
یوں جنگ کے آغاز میں ایران سے مکمل تسلیم اور وسیع سیاسی و عسکری مطالبات کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ اب نسبتاً محدود اہداف پر توجہ مرکوز کرتی دکھائی دے رہی ہے؛ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میدان جنگ اور علاقائی حالات نے واشنگٹن کو اپنے ابتدائی دعووں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ