مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی عبرانی اخبار ہاآرٹز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدے کے نتیجے میں قائم ہونے والا اتحاد لازماً ایران کے خلاف فوجی محاذ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ خطے کے بعض معاملات ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے سے متعلق ہیں، تاہم تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف تشکیل نہیں دیا گیا۔
ہاآرٹز کے مطابق اگر اس اتحاد میں مزید ممالک شامل ہوتے ہیں تو یہ روایتی فوجی اتحاد کے بجائے زیادہ وسیع سیاسی اور سفارتی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک اس فورم کو ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا راستہ کھولنے اور خلیج فارس، بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق معاملات میں باہمی تعامل کے لیے نئے اصول وضع کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس اتحاد کی اصل اہمیت ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں بلکہ بحرانوں کے انتظام اور تہران کے ساتھ مذاکرات کی صلاحیت میں ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر سب سے اہم پیش رفت ایران کے خلاف ایک نئے علاقائی محاذ کا قیام نہیں بلکہ خطے کے ممالک کی جانب سے اپنے بحرانوں کے انتظام کی باگ ڈور خود سنبھالنے کی کوشش ہوگی، تاکہ انہیں ہر معاملے میں امریکہ کے فیصلوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
اخبار کے مطابق یہ اتحاد اگرچہ غیر رسمی حیثیت میں برقرار رہے یا اس میں محدود فوجی ذمہ داریاں شامل ہوں، پھر بھی اسے ایک علاقائی مذاکراتی چینل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور حساس ترین علاقائی معاملات پر ایران کے ساتھ مفاہمت پیدا کرنا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ