16 اگست، 2026، 4:10 PM

ایران جنگ نے امریکی اعتبار کو کمزور اور اتحادیوں کو دور کر دیا، امریکی مبصر

ایران جنگ نے امریکی اعتبار کو کمزور اور اتحادیوں کو دور کر دیا، امریکی مبصر

معروف امریکی تجزیہ کار کے مطابق ٹرمپ کی ایران پالیسی نے واشنگٹن کے عالمی اعتبار کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے اتحادی اب امریکی سکیورٹی پر انحصار کم کرکے متبادل دفاعی راستے تلاش کر رہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف امریکی تجزیہ کار فرید زکریا نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ایران جنگ کو ایک بڑی طاقت کی جانب سے اپنے ہی عالمی اعتبار کو ضائع کرنے کی مثال قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کے اتحادیوں کو واشنگٹن پر انحصار کم کرنے اور اپنے لیے آزاد سکیورٹی انتظامات تشکیل دینے کی طرف دھکیل دیا ہے۔

زکریا نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے ممالک کے درمیان ہوا ہے جو ماضی میں ایک دوسرے کے سخت حریف رہے ہیں۔ ان ممالک کو قریب لانے والے اہم عوامل میں سے ایک ٹرمپ اور ان کے وعدوں پر کم ہوتا ہوا اعتماد ہے۔

زکریا کے مطابق ایران جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ ایک عالمی طاقت کس طرح اپنا سب سے اہم سرمایہ، یعنی اعتبار، خود ضائع کر سکتی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے تہران کے ساتھ معاہدہ قریب ہونے کے بار بار دعووں کا حوالہ دیا اور لکھا کہ جون کے وسط تک کم از کم 38 مرتبہ یہ دعویٰ کیا جا چکا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، تاہم حال ہی میں ایک ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات میں بالکل کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حال ہی میں ایک دن میں صرف 14 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ 130 سے زیادہ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

زکریا لکھتے ہیں کہ مسئلہ صرف ٹرمپ کے بیانات یا ان کے انداز گفتگو کا نہیں بلکہ امریکہ کی اصل عالمی طاقت، یعنی اس کے اعتبار کا ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہازوں، ایف 35 جنگی طیاروں اور اپنی اقتصادی طاقت کے ساتھ ایک اور انتہائی اہم سرمایہ بھی حاصل کیا تھا کہ اتحادی ممالک کے ساتھ واشنگٹن کے وعدے مستقل اور قابل بھروسہ ہیں۔ لیکن ٹرمپ کے غیر متوقع طرز عمل نے اس اعتماد کو کمزور کیا ہے اور نتیجتاً اتحادی ممالک امریکہ کے ساتھ مزید جڑنے کے بجائے اپنے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔

زکریا نے ڈنمارک کی جانب سے امریکی پیٹریاٹ نظام کے بجائے یورپی فضائی دفاعی نظام کے انتخاب، کینیڈا کی جانب سے ایف 35 طیاروں کی خریداری پر نظرثانی اور یورپی ممالک کی اپنی دفاعی صنعتوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کو اس رجحان کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے یورپ اور خلیج فارس کے ممالک کو اسلحہ فراہم کرنے میں جنوبی کوریا کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کیا۔ اسی طرح سعودی عرب، ترکی اور پاکستان بھی اپنے لیے ایک نسبتا آزاد سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

زکریا کے مطابق ان میں سے کوئی ایک قدم امریکہ سے مکمل علیحدگی کا ثبوت نہیں، لیکن ان تمام اقدامات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ واشنگٹن اور امریکی صدر کے وعدوں پر گہرے ہوتے ہوئے عدم اعتماد کی واضح علامت ہیں۔

فرید زکریا نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے رویے کو بھی اس تبدیلی کی ایک مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے غزہ کے بارے میں ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کو بھی فوری طور پر مسترد کر دیا، کیونکہ اس سے پہلے وہ ایسے کئی منصوبے دیکھ چکے ہیں جن کا بڑے شور و غوغا کے ساتھ اعلان کیا گیا لیکن بعد میں انہیں بھلا دیا گیا۔

زکریا کے مطابق بڑی طاقتیں ہمیشہ کسی ایک بڑی شکست کے نتیجے میں اچانک زوال کا شکار نہیں ہوتیں، بلکہ زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب دوسرے ممالک بتدریج اپنی دنیا کو اس طاقت کے گرد منظم کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکہ اب بھی دنیا کی طاقتور ترین فوج، جدید ٹیکنالوجی، وسیع سرمایہ جاتی منڈیوں، مضبوط اتحادوں اور عالمی سطح پر غالب کرنسی ڈالر کا مالک ہے، لیکن اعتبار بھی ایک اثاثہ ہے جسے بنانے میں کئی نسلیں لگتی ہیں اور اسے خرچ و تباہ کرنے میں بہت کم وقت لگ سکتا ہے۔

زکریا نے اپنے مضمون کے اختتام پر کیوبا میزائل بحران کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس بحران کے دوران امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے نمائندے ڈین آچیسن سوویت میزائلوں کے شواہد پیش کرنے کے لیے پیرس گئے تھے۔ اس وقت فرانسیسی صدر شارل ڈیگال نے امریکی انٹیلی جنس کی تصاویر تک دیکھنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں؛ امریکی صدر کی بات ہی ان کے لیے کافی تھی۔

زکریا کے مطابق آج ایسی صورت حال کا تصور تقریبا ناممکن ہے اور یہی فرق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ نے اگرچہ اپنی فوجی اور معاشی طاقت برقرار رکھی ہے، لیکن اس کے عالمی اثر و رسوخ کا ایک بنیادی ستون، یعنی اتحادیوں کا اعتماد، کمزور ہو رہا ہے۔

News ID 1940703

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha