مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے ایران اور عراق کے درمیان پروازوں پر عائد پابندیوں کو دونوں ممالک کے مفادات کے منافی قرار دیتے ہوئے بغداد سے مناسب اقدامات اور معمول کی فضائی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ایران کے ساتھ تجارتی روابط اور دیگر ممالک کے ساتھ فضائی آمدورفت میں خلل ڈالنے کے لیے امریکی حکومت کی جانب سے غیر قانونی پابندیوں کو بیرون ملک نافذ کرنے کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں، بالخصوص ممالک کی قومی خودمختاری کے احترام کے اصول کے خلاف اور انسانی حقوق کے بنیادی ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات ممالک، خصوصا پڑوسی ریاستوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ایک خطرناک کوشش ہیں۔
بیان میں ایران اور عراق کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور عوامی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور حسن ہمسائیگی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور عراق کے تعلقات محض دو ہمسایہ ممالک کے روایتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دونوں اقوام کے عوامی روابط اور مختلف شعبوں میں باہمی مفادات پر قائم ہیں۔ ہر سال لاکھوں ایرانی اور عراقی شہری اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں، زیارات، سیاحت، تعلیم اور طبی علاج کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے ہیں، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان نقل و حمل اور مواصلات سے متعلق معاملات کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آزادانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں منظم کیا جانا چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر پر پابندیوں نے لاکھوں مسافروں، زائرین، مریضوں، طلبہ اور اقتصادی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں۔ یہ پابندیاں ایران اور عراق کے درمیان حسن ہمسائیگی پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کی نوعیت سے بھی واضح طور پر متصادم ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے عراق کی قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے بغداد سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی اقتصادی دباؤ اور اختلافات پیدا کرنے والی کارروائیوں کے مقابلے میں مناسب فیصلے کرے، فضائی سفر پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے اور دونوں ممالک کی ایئرلائنز کی پروازوں کے معمول کے حالات بحال کرے، تاکہ ایران اور عراق کے عوام کے مفادات اور فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ