مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یونان کے طلبہ، اساتذہ اور سرکاری ملازمین بدھ کے روز ایتھنز اور تھیسالونیکی میں جمع ہوئے، تاکہ اخراجاتِ زندگی میں اضافے اور تعلیمی شعبے کے لیے بجٹ کی کمی کے خلاف احتجاج کر سکیں۔
تھیسالونیکی کی ارسطو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کی سربراہ کاتیا کوبوسیدو نے کہا کہ یونان کے مظاہرین بھی فرانس کی طرح سرکاری اور مفت تعلیم کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ احتجاج صرف ایک اجتماع تک محدود نہیں رہے گا۔
منگل کے روز درجنوں طلبہ نے ایتھنز میں پارلیمنٹ کے سامنے واقع سینتاگما اسکوائر اور تھیسالونیکی کی ایک پیدل گزرگاہ پر خیمے نصب کیے۔ سرکاری ملازمین کی یونین نے بھی ایتھنز میں ہڑتال اور احتجاجی اجتماع کی اپیل کی ہے۔
ثانوی جماعتوں کے طلبہ اور اساتذہ تعلیمی سہولتوں اور افرادی قوت کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے لیے سرکاری اخراجات میں ناکافی اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
یونان کی قدامت پسند حکومت نے ان مظاہروں کا فرانس میں حالیہ بدامنی سے موازنہ کیے جانے کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ یونانی وزیرِاعظم نے پیر کے روز کہا کہ ان کا ملک ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل مالیاتی بحران کے دوران پیدا ہونے والی وسیع سماجی بدامنی کے دور میں کبھی واپس نہیں جائے گا۔
آپ کا تبصرہ