مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برازیل کے صدارتی انتخابات میں امریکی مداخلت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے اپنے حمایت یافتہ سیاسی دھڑے کو اقتدار میں لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے پس پردہ ایک ایسی مہم ترتیب دی جس کا مقصد بولسونارو خاندان کو دوبارہ برازیل میں اقتدار تک پہنچانا تھا۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے برازیل پر پابندیوں میں شدت پیدا کرکے انتخابی مقابلے میں اس سیاسی دھڑے کے حق میں حالات سازگار بنانے کی کوشش کی۔
امریکہ کے موجودہ اور سابق 10 عہدیداروں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برازیل کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اس مہم کے اثرات نمایاں ہوں گے، جہاں بولسونارو اور دا سلوا کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
اس سے قبل برازیل کے صدر لولا دا سلوا بھی امریکہ پر اپنے ملک کے انتخابات میں مداخلت اور برازیل کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے برازیل میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو آگاہ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی سرکاری پالیسی سابق برازیلی صدر ژائیر بولسونارو کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔
واضح رہے کہ بولسونارو کو 2022 کے انتخابات میں لولا دا سلوا سے شکست کے بعد مبینہ طور پر بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کے معاملے میں عوامی عہدے رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
ستمبر 2025 میں بولسونارو کو 27 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد امریکی حکام نے اپنی حمایت کا رخ ان کے بیٹے فلاویو بولسونارو کی جانب موڑ دیا۔ اس کے بعد امریکی سفارت خانے کے عملے کو ہدایت دی گئی کہ وہ فلاویو بولسونارو کے حریف کسی دوسرے قدامت پسند امیدوار سے رابطہ نہ کریں۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے حکام گزشتہ سال سے لولا دا سلوا کی سیاسی پوزیشن کمزور کرنے اور بولسونارو خاندان کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف سخت اقدامات میں بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان اقدامات میں برازیل کی سپریم کورٹ کے ایک جج پر امریکی پابندیاں عائد کرنا بھی شامل تھا۔ مذکورہ جج سابق صدر بولسونارو کے خلاف تحقیقات کی نگرانی کر رہے تھے۔
تاہم، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اقدامات کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ ان کے برعکس صدر لولا دا سلوا کی حکومت کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ