مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی اخبار ہاآرٹز نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی وزارت عظمی کے آخری ایام کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت اس وقت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ہاآرٹز کے مطابق، اسرائیلی بینکوں پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے نیتن یاہو کے غیر محتاط بیانات کے بعد اسرائیل کی اقتصادی بنیادیں تباہی کے خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں اور بینکوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
اخبار نے لکھا کہ نتن یاہو اپنا ذہنی توازن کھوچکے ہیں اور وہ اپنے انتہا پسند اتحادیوں کے ساتھ اتحاد کو ترجیح دے رہے ہیں، خواہ اس کے لیے معیشت اور عوام کے معیار زندگی کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو اس سے قبل اسرائیلی بینکوں پر ممکنہ پابندیاں عائد کیے جانے اور اسرائیلی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی ضرورت کا ذکر کرچکے ہیں۔ ان بیانات پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسرائیل کی سیاسی جماعت یشار کے سربراہ گادی آئزن کوٹ نے بھی کہا ہے کہ نیتن یاہو اب اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اہل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، تل ابیب کے خلاف ممکنہ بین الاقوامی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نیتن یاہو کا پیش کردہ اقتصادی منصوبہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
آئزن کوٹ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے اسرائیلی معاشرے کو منتشر کرنے اور فوج کو کمزور کرنے کا مشن مکمل کرنے کے بعد اب آنے والی نسلوں کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا حقیقت کی دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور وہ خیالی تصورات کی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل خود کو مکمل طور پر عالمی مالیاتی نظام سے الگ کر سکتا ہے، جسے آئزن کوٹ نے ایک ایسے شخص کی دیوانگی قرار دیا جو اب اپنے عہدے کا اہل نہیں رہا۔
آئزن کوٹ نے سوال اٹھایا کہ اگر اسرائیل کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کر دیا جائے تو غیر ملکی کرنسی میں کاروبار کرنے والی اسرائیلی کمپنیاں اپنی سرگرمیاں کیسے جاری رکھ سکیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیسے حاصل کریں گی؟
ان کے مطابق، ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کے نتیجے میں یہ کمپنیاں دوسرے ممالک کا رخ کرنے اور وہاں منتقل ہونے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے اسرائیل کی معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
آپ کا تبصرہ