مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر پاکستانی ثالث کو کوئی نئی پیشکش نہیں کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک باخبر ایرانی ذریعے نے ان میڈیا رپورٹس کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ تہران نے اس معاملے پر پاکستانی ثالث کو نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
باخبر ذریعے کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کا موجودہ سات روزہ منصوبہ، جس میں اس آبی گزرگاہ کو کھولنے کے لیے تہران کی شرائط شامل ہیں، پہلے ہی ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا جاچکا ہے۔
ذریعے نے سعودی خبر رساں ادارے العربیہ کی رپورٹ کو جھوٹ اور من گھڑت خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے میں غلط خبریں پھیلانا اس ادارے کے معمول کا حصہ ہے۔
العربیہ کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔
تاہم، ایرانی ذریعے نے واضح کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے پر مبنی کسی بھی انتظام کو قبول نہیں کرتا۔ اس کے بجائے ایران اپنے طریقوں سے پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور بالآخر انہیں توڑ دے گا۔
ایرانی عہدیدار نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے مطالبات پر مشتمل سات روزہ منصوبہ پہلے ہی ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق کو منتقل کیا جا چکا ہے۔ جب تک ایران کے تمام مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، جن میں ایرانی بندرگاہوں اور بحری آمدورفت میں پیدا کی گئی رکاوٹوں کا خاتمہ بھی شامل ہے، آبنائے ہرمز میں امریکہ کی جانب سے پیدا کی گئی عدم تحفظ کی صورت حال ختم نہیں ہوگی۔
ایرانی ذریعے نے کہا کہ پوری دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ امریکہ کے جارحانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات ہیں۔ اس لیے ان غیر قانونی اقدامات کو روکنا خطے اور دنیا کے ممالک کا مشترکہ مطالبہ ہے۔
آپ کا تبصرہ