مہر خبررساں ایجنسی کے نمائندے نے ایک باخبر ذرائع سے گفتگو کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی مسلسل تکنیکی اور سفارتی بات چیت کے نتیجے میں، بالآخر رواں ماہ کے آغاز میں حتمی معاہدہ طے پا گیا۔ اب جلد ہی تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا اعلان خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں کیا جائے گا۔
واضح رہے یہ مفاہمت صرف ایران اور عمان کے درمیان طے پائی ہے۔ دیگر ممالک اجلاس میں صرف اس لیے شریک ہوں گے، تاکہ انہیں آمدورفت کے راستوں اور اس کے انتظامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے اور عالمی برادری کے سامنے بالواسطہ طور پر یہ بات بھی واضح ہو کہ انہیں اس انتظام پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اس مفاہمت کے تحت ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے داخلے اور خروج کے لیے نئے راستوں کی تفصیلات اور خصوصیات پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے مطابق خلیج فارس میں داخل ہونے والا راستہ مکمل طور پر ایران کے علاقائی پانیوں میں ہوگا، جبکہ خلیج فارس سے باہر نکلنے والے راستے کا ایک حصہ بھی ایران کے علاقائی پانیوں میں واقع ہوگا۔
اس راستے میں آمدورفت ایرانی انتظامات کے تحت ہوگی۔ اس انتظام کے عملی ہونے کے بعد جنوبی راستہ، جسے امریکہ کھولنے پر اصرار کر رہا تھا اور جو نئی کشیدگی کی بنیادی وجہ تھا، بند رہے گا۔
اس اجلاس میں ایران، عمان اور خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک کے علاوہ عراق بھی شریک ہوگا۔ تاہم یہ ممالک صرف ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے نتیجے سے آگاہ ہوں گے، جبکہ مفاہمت کی تفصیلات سے متعلق فیصلے ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے تکنیکی اجلاسوں میں پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اس مفاہمت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 7 شرائط پیش کی ہیں اور جب تک اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام کی منظوری سے طے شدہ یہ ساتوں شرائط پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
لہٰذا ایران اور عمان کے درمیان مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کو کھولنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تو اسے اسی مفاہمت کے تحت کھولا جائے گا۔ یہ آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت کے نفاذ کی جانب ایک بڑا قدم تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا مکمل طور پر امریکی فریق کے ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔
آپ کا تبصرہ