مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: یمن کے مغربی علاقوں میں گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی پیش رفت نے ملک کی میدانی صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ انصاراللہ کی تیز رفتار پیش قدمی اور باب المندب کے قریب واقع علاقوں اور جزائر تک رسائی محض داخلی جنگ میں محاذ کی تبدیلی نہیں بلکہ اس سے انصاراللہ کی جغرافیائی پوزیشن بھی تبدیل ہوئی ہے۔
باب المندب کے دہانے تک انصاراللہ کی پیش قدمی
حالیہ پیش قدمی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب اس کے راستے پر نظر ڈالی جائے۔ انصاراللہ نے گزشتہ دنوں المخا کا کنٹرول سنبھالا، جس کے بعد اس کی پیش قدمی ذباب اور حنیش جزائر کی جانب بڑھی اور بالآخر باب المندب کے داخلی راستے پر واقع میون جزیرہ بھی اہم پیش رفت کا مرکز بن گیا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی حمایت یافتہ عناصر میون اور ذباب کے علاقے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور انصاراللہ نے میون کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ میون اس لیے اہم ہے کہ یہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر واقع ہے اور اس جزیرے پر قابض قوت کو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کے گردونواح کی صورتحال پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔
تاہم میون کی اہمیت کو صرف ایک جزیرے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی یمن کے ساحل پر واقع المخا، ذباب، حنیش اور میون ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم مقامات ہیں۔ ان پر بیک وقت اثر و رسوخ انصاراللہ کو یمن کے اندرونی علاقوں سے باب المندب تک ساحلی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی زیادہ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، انصاراللہ اب صرف یمن کے اندر موجود ایک فریق نہیں رہا بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن براہ راست بحیرہ احمر اور بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی سے جڑ گئی ہے۔
باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور بحیرہ احمر کے ذریعے ایشیا سے یورپ اور نہر سوئز تک بحری تجارت کا اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی بڑے پیمانے کی بدامنی، جہاز رانی کے اخراجات اور ایشیا و یورپ کے درمیان تجارتی سفر کے دورانیے میں اضافہ کرسکتی ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران بھی بحیرہ احمر میں عدم تحفظ کے باعث کئی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کا رخ تبدیل کرکے افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کیا تھا۔ اسی لیے مغربی یمن کے ساحل پر حالیہ پیش قدمی کو انصاراللہ کی محض زمینی کامیابی قرار دینا کافی نہیں۔ اس پیش رفت نے خطے میں طاقت کے جغرافیے کو تبدیل کیا ہے۔ باب المندب کے قریب انصاراللہ کی موجودگی جتنی مضبوط ہوگی، بحری سلامتی اور خطے کے ممالک کی حکمت عملی پر اس کا اثر بھی اتنا ہی بڑھے گا۔
سعودی عرب اور امریکہ کا ردعمل
سعودی عرب کا ردعمل بھی ظاہر کرتا ہے کہ ریاض ان پیش رفتوں کو یمن کے اندرونی معاملے تک محدود نہیں سمجھتا۔ ایکسوس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انصاراللہ کے خلاف براہ راست کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے امریکی فوج کی براہ راست مداخلت کی مخالفت کی، تاہم واشنگٹن نے سعودی عرب کے لیے اپنی انٹیلی جنس معاونت میں اضافہ کیا ہے۔ ایکسس نے بتایا کہ امریکہ انصاراللہ کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی حمایت بڑھا رہا ہے اور واشنگٹن کی ترجیح بحیرہ احمر میں بحری راستے تک رسائی برقرار رکھنا ہے۔
امریکا کا یہ مؤقف ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتا ہے۔ واشنگٹن ایک طرف نہیں چاہتا کہ مغربی یمن کی صورتحال بحری راستوں کے لیے سنگین خطرہ بنے، لیکن دوسری طرف وہ خود براہ راست ایک نئی جنگ میں داخل ہونے سے بھی گریز کررہا ہے۔ اسی لیے اس کی موجودہ پالیسی سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور عملی معاونت فراہم کرنے تک محدود دکھائی دیتی ہے۔
سی این این کی ایک خصوصی رپورٹ میں بھی سعودی عرب میں 100 سے زائد امریکی فوجی مشیروں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے، جو انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی کے شعبوں میں سعودی عرب کی مدد کررہے ہیں۔
باب المندب؛ تجارت اور توانائی کا اہم راستہ
اس معاملے کی اہمیت سعودی عرب کے لیے صرف اس کی جنوبی سرحد کی سلامتی تک محدود نہیں۔ بحیرہ احمر سعودی عرب کی معیشت اور تیل کی برآمدات کے لیے بھی اہم ہے۔ ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز بھی شدید بحران سے دوچار ہے، باب المندب میں عدم تحفظ میں اضافہ توانائی کی ترسیل اور برآمدی راستوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی صورتحال اب محض ایک علاقائی سکیورٹی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے براہ راست اقتصادی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔
توانائی کی منڈی بھی خطے کی صورتحال پر حساس ردعمل ظاہر کررہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطی میں جاری بحران اور تیل کی فراہمی و ترسیل کے راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
میدانی کامیابی سے اسٹرٹیجک طاقت تک
انصاراللہ کی حالیہ پیش قدمی کی اہمیت کو صرف اس بنیاد پر نہیں دیکھا جاسکتا کہ اس نے کتنے شہر یا جزیرے اپنے کنٹرول میں لیے ہیں۔ کسی فوجی قوت کی حقیقی طاقت اس وقت بڑھتی ہے جب وہ اپنی جغرافیائی پوزیشن کو سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کے دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔
انصاراللہ اب ایسی پوزیشن میں ہے جہاں مغربی یمن کے ساحل پر اس کی موجودگی سعودی عرب، امریکا، عالمی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
اس پیش رفت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ نسبتاً پرسکون دور کے بعد ایک مختلف مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ 2022 کی جنگ بندی نے بڑے پیمانے پر لڑائی کی شدت کم کردی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں کی پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اس عرصے میں قائم ہونے والا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
المخا سے ذباب اور حنیش سے میون تک انصاراللہ نے مختصر عرصے میں مغربی یمن کے ساحل پر اپنی پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط کی ہے۔ اس کا نتیجہ بحیرہ احمر میں ایک نئی صورتحال کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے سعودی عرب کو امریکا سے مدد طلب کرنے، واشنگٹن کو ریاض کی انٹیلی جنس معاونت بڑھانے اور توانائی و بحری تجارت کی منڈیوں کو یمن کی صورتحال پر زیادہ حساس ہونے پر مجبور کیا ہے۔
اسی لیے مغربی یمن کے ساحل پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کو محض یمن کی داخلی جنگ کا ایک اور مرحلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ صورتحال اب خطے میں بحری سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کے وسیع تر اسٹرٹیجک معادلے کا حصہ بنتی جارہی ہے۔
آپ کا تبصرہ