مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے نیٹو اور یورپی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے میں ان کی کارکردگی بہت سے پہلوؤں سے انتہائی مایوس کن رہی ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں موجود تمام بحری بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز ڈبلن کے دورے کے دوران ایران کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نیٹو نے آبنائے ہرمز میں ہماری مدد نہیں کی، حالانکہ ہم اس آبی گذرگاہ سے کوئی تیل حاصل نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ میں ایران کے مقابلے میں امریکی فوجی سازوسامان کی برتری سب نے دیکھی ہے! ہم نے تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں۔ اب وہاں کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت بخوبی جاری رہے گی اور دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ آبنائے امریکہ کے کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی یقینی بنانے میں واشنگٹن کی مدد سے گریز کرنے پر یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
امریکی صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں یورپ کے بارے میں کہا کہ انہیں تجارت، توانائی اور ہجرت کے حوالے سے اس براعظم کی صورتحال سخت ناپسند ہے اور انہوں نے یورپ کی ہجرت سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔
آپ کا تبصرہ