12 ستمبر، 2026، 5:43 PM

ہم ایسی دنیا کے خواہاں ہیں جہاں طاقت قانون کی جگہ نہ لے، پزشکیان

ہم ایسی دنیا کے خواہاں ہیں جہاں طاقت قانون کی جگہ نہ لے، پزشکیان

ایرانی صدر نے برکس رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں طاقت قانون کی جگہ نہ لے، پابندیاں تعاون کی جگہ نہ لیں، جنگ مذاکرات کی جگہ نہ لے اور اجارہ داری شراکت داری کی جگہ نہ لے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے نئی دہلی میں منعقدہ برکس رکن ممالک کے سربراہان کے غیر اعلانیہ اجلاس سے خطاب میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہر حکمرانی کے نظام کی ساکھ اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ چھوٹے اور بڑے تمام ممالک کے حقوق کے تحفظ کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے؛ کہا کہ اگر اقوام متحدہ کا منشور طاقت کے غیرقانونی استعمال کے مقابل قوموں کا تحفظ نہ کر سکے اور بین الاقوامی قوانین کچھ ممالک کے لیے لازمی جبکہ دوسروں کے لیے قابلِ تشریح ہوں تو حقیقی کثیرالجہتی نظام کی بات نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس کا موضوع، یعنی ’’جامع عالمی حکمرانی اور کثیرالجہتی نظام کا استحکام‘‘ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ آج دنیا کو ایک بنیادی تضاد کا سامنا ہے؛ ایک طرف مشترکہ بحرانوں کے مقابل ممالک کا باہمی انحصار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، جبکہ دوسری طرف یک طرفہ پسندی، دباؤ اور مالی و ٹیکنالوجی کے نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی چیلنج نہیں، بلکہ عالمی حکمرانی کی بنیادوں کو بھی کمزور کر رہا ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حقیقت کا عملی تجربہ کیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کے نتیجے میں بے گناہ انسانوں کی جانیں گئیں اور ملک کے اہم اقتصادی، بنیادی ڈھانچے اور غیر فوجی مراکز کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ چالیس روزہ جنگ کے پہلے ہی دن امریکہ اور قابض حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اور میناب کے ایک اسکول میں ۱۶۸ بے گناہ بچوں کو شہید کیا۔ میناب اسکول اور لامِرد اسٹیڈیم پر حملے نے ظاہر کر دیا کہ امریکہ اور قابض حکومت کی یکطرفہ پسندی، جنگ پسندی اور سفاکیت، اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی بے عملی کے ساتھ مل کر کس طرح براہِ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ اور لبنان میں عام شہریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پوری انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر کثیرالجہتی نظام جنگ، نسل کشی اور جارحیت کے مقابل انسانی جانوں اور ممالک کی خودمختاری کا تحفظ نہیں کر سکتا تو اس کی قانونی حیثیت پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ ہمارا جواب صرف بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عالمی نظام کے طریقۂ کار میں حقیقی اصلاح کی ضرورت ہے۔

جامع عالمی حکمرانی کے چار بنیادی اصول

پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطۂ نظر سے جامع عالمی حکمرانی چار بنیادی اصولوں پر قائم ہے:

پہلا: ممالک کی خودمختاری کا یکساں احترام اور بین الاقوامی قانون کا بلاامتیاز نفاذ۔ کوئی ملک اپنی اقتصادی یا فوجی طاقت کی بنیاد پر ان قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے جو دوسروں کے لیے لازمی ہیں۔

دوسرا: عالمی حکمرانی کے ڈھانچے میں اصلاح۔ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو دنیا کی بدلتی ہوئی حقیقتوں اور عالمی جنوب کے ممالک کے حقیقی کردار کی عکاسی کرنی چاہیے۔

تیسرا: کثیرالجہتی نظام کو نعرے کے بجائے عملی شکل دینا؛ قومی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینا، آزاد ادائیگی کے نظام مضبوط کرنا اور نئے ترقیاتی بینک جیسے اداروں کے کردار کو بڑھانا، تاکہ زیادہ متوازن عالمی اقتصادی نظام تشکیل پا سکے۔

چوتھا: یکطرفہ پابندیوں کا عملی اور سنجیدہ مقابلہ۔ ایسی پابندیاں صرف حکومتوں ہی نہیں، بلکہ عوام، مریضوں، بچوں اور ممالک کی ترقی کے راستے کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔

پائیدار سلامتی کے لیے خودمختاری کا احترام ضروری ہے

پزشکیان نے کہا کہ حالیہ برسوں کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ پائیدار سلامتی کی بنیاد کچھ ممالک کے لیے سلامتی اور دوسروں کے لیے عدم تحفظ نہیں ہو سکتی۔ پائیدار سلامتی اسی وقت حاصل ہوگی جب ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور کوئی ملک اپنی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دھمکی یا حملے کے لیے استعمال نہ کرنے دے۔

انہوں نے کہا کہ برکس کو غیر فوجی اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو معمول بنائے جانے کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ یہی اصول پرامن جوہری تنصیبات کے بارے میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ ان تنصیبات کو حملے اور حملے کی دھمکی سے محفوظ رہنا چاہیے، کیونکہ انہیں خطرے میں ڈالنا صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

فلسطین عالمی حکمرانی کی ساکھ کا ایک اور امتحان ہے
ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ بھی عالمی حکمرانی کی ساکھ کا ایک اور امتحان ہے۔ فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت اور محفوظ زندگی کا حق حاصل ہے اور ان کی مرضی کا احترام کیے بغیر کوئی منصفانہ حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ برکس کو انصاف کی آواز بننا چاہیے اور قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی ضمانت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایران برکس میں تین شعبوں کی حمایت کرتا ہے

پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران برکس میں تین رجحانات کی حمایت کرتا ہے:

1. اقوامِ متحدہ کے منشور اور ممالک کی خودمختاری کے دفاع میں رکن ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا۔

2. اجارہ دارانہ ذرائع سے آزاد اقتصادی اور مالی تعاون کو فروغ دینا۔

3. سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا، تاکہ تمام رکن ممالک، خصوصاً عالمی جنوب کے ممالک کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ تعاون کی ضرورت ہے، لیکن انصاف کے بغیر پائیدار تعاون ممکن نہیں۔ کثیرالجہتی نظام اسی وقت بامعنی ہوگا جب سب قانون کے سامنے برابر ہوں اور عالمی حکمرانی اسی وقت جائز سمجھی جائے گی جب ترقی پذیر ممالک کی آواز سنی جائے۔

پزشکیان نے مزید کہا کہ برکس اپنے طے شدہ اہداف، بالخصوص انصاف پر مبنی عالمی نظام کے قیام کے لیے اس وقت کامیاب ہوگا جب وہ گروپ کے اندر موجود بعض چیلنجز پر بھی قابو پائے۔ برکس کے بنیادی اصولوں اور اہداف سے وابستگی، گروپ سے باہر کے رجحانات اور دباؤ سے متاثر نہ ہونا، رکن ممالک کے خلاف غیرقانونی اور ظالمانہ پابندیوں کی مزاحمت، مسابقت کے شعبوں کو تعاون میں تبدیل کرنا، ایک نظام قائم کرنا، مستقل سیکریٹریٹ کا قیام اور رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ مشترکہ فیصلوں پر زیادہ اتحاد، تیزی اور مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران برکس کے دائرہ کار میں ان اہداف کے حصول کے لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں طاقت قانون کی جگہ نہ لے، پابندیاں تعاون کی جگہ نہ لیں، جنگ مذاکرات کی جگہ نہ لے اور اجارہ داری شراکت داری کی جگہ نہ لے۔ یہی جامع عالمی حکمرانی اور کثیرالجہتی نظام کا حقیقی مفہوم ہے۔

ایرانی محققین کے خلاف مغرب کی علمی جنگ؛ سائنسی مقالات کی اشاعت پر پابندی

ایرانی وزارتِ صحت کے معاون برائے تحقیقات و ٹیکنالوجی نے ایرانیوں کے سائنسی مقالات کی ترسیل پر پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اب صرف علمی پابندی نہیں، بلکہ علمی جنگ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ صحت، علاج و طبی تعلیم کے معاون برائے تحقیقات و ٹیکنالوجی ڈاکٹر شاہین آخوندزادہ نے اپنے ذاتی صفحے پر، امریکہ کی علم دشمنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ اب علمی پابندی نہیں، بلکہ علمی جنگ ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ میں نے نیوروسائیکوبایولوجی کے جریدے کے لیے ایک مقالہ تیار کیا اور اسے ارسال کرنے کی تیاری کی۔ جیسے ہی مقالہ بھیجنے کا عمل شروع کیا تو ایک پیغام سامنے آیا جس میں لکھا تھا کہ ایران اور چند دیگر ممالک کے شہری پابندیوں کے باعث اس آن لائن نظام کے ذریعے اس جریدے کو اپنے مقالات ارسال نہیں کر سکتے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ یہ ہے امریکہ کی آزاد علمی دنیا اور سائنس کو سیاست سے الگ رکھنے کا دعویٰ!

News ID 1941319

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha