مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برکس ممالک کے سربراہان نے نئی دہلی اجلاس میں منظور شدہ بیانیہ میں غزہ سے فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت پر زور دیا اور لبنان میں جنگ بندی کی پاسداری، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۱۷۰۱ پر عمل درآمد اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
برکس کے سربراہان نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں اس گروپ کے ۱۸ویں اجلاس کے پہلے روز ’’اعلامیہ نئی دہلی‘‘ متفقہ طور پر منظور کیا۔
اعلامیے میں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینیوں کو اس علاقے سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی کسی بھی پالیسی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف پُرامن طریقوں سے ممکن ہے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بشمول حقِ خودارادیت اور واپسی کا حق، پورا کیا جانا چاہیے۔
برکس کے سربراہان نے ایسے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جو فلسطینیوں کے مسلمہ حقوق کو کمزور، قبضے کو جائز یا اسے مزید طول دے سکتے ہیں۔
برکس ارکان نے شام کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ملک میں ایک پُرامن اور جامع سیاسی عمل کی حمایت کریں۔
لبنان کے حوالے سے برکس ارکان نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور تمام فریقوں سے اس کی شرائط پر مکمل عمل درآمد اور سلامتی کونسل کی قرارداد ۱۷۰۱ پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے جنگ بندی اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرے اور لبنانی سرزمین کے باقی تمام علاقوں سے اپنی فوج واپس بلائے۔
برکس کے اعلامیے میں ایران اور یوکرائن میں جاری جنگوں کے تناظر میں تنازعات کی روک تھام اور بحرانوں کے پُرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
رکن ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ تنازعات کے امکانات کم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں اور بحرانوں کی بنیادی وجوہات کا ازالہ کیا جائے۔
برکس ارکان نے جوہری تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جوہری تخفیفِ اسلحہ، اسلحے پر کنٹرول اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام پر زور دیا۔
انہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے اور پُرامن جوہری تنصیبات پر دانستہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مسلح تنازعات کے دوران بھی جوہری تنصیبات کی سلامتی اور تحفظ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے کے ایک اور حصے میں برکس ارکان نے بین الاقوامی قانون سے متصادم یکطرفہ، تعزیری، امتیازی اور تحفظ پسندانہ اقدامات کی مخالفت کی اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پر زور دیا۔
رہنماؤں نے سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور پائیدار جنگ بندی اور اس بحران کے پُرامن حل کا مطالبہ کیا۔
برکس کا ۱۸واں اجلاس ۱۲ اور ۱۳ ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت کی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاحات، اقتصادی و تجارتی تعاون، توانائی و غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی اور علاقائی و بین الاقوامی بحرانوں سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ