مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قومی یومِ برآمدات کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور ملک کے نمایاں برآمد کنندگان کو متعارف کروایا۔
انہوں نے انقلابِ اسلامی کے شہداء، بالخصوص رہبرِ انقلابِ اسلامی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جو ہمیشہ ایرانی برآمد کنندگان کے حامی رہے۔ پزشکیان نے کہا کہ میں اپنے ملک کے تمام برآمد کنندگان کو اس دن کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کی کوششوں اور محنت کو خراجِ تحسین پیش ہوں۔ یہ آپ ہی کی کوششیں اور محنت ہے جس کی بدولت ہم آج بھی ثابت قدم ہیں۔
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دنیا ایرانی عوام اور ملک کو ایک مختلف نگاہ سے دیکھتی ہے، کہا کہ اس مختلف نقطۂ نظر کی وجہ ایرانی قوم کی پائیداری اور ثابت قدمی ہے۔ دنیا ہمیں اسی وجہ سے مختلف انداز سے دیکھتی ہے اور ہمیں ہی حالات کو اس طرح ترتیب دینا ہے کہ ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ہم پوری قوت اور عزم و استقامت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھ سکیں۔
پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے اپنے ابتدائی اقدامات میں علاقائی حکام کو اختیارات سونپنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے والے قوانین و ضوابط کو ختم کرنے کی کوشش کی، تاکہ برآمد کنندگان کے راستے میں حائل مشکلات دور کی جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران بھی میں نے اپنے وہی اختیارات گورنروں اور وزراء کو منتقل کر دیے جو خود میرے پاس تھے۔ ہم نے سب کو ہدایت کی کہ وہ آپ کے راستے سے مشکلات دور کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں۔
ایرانی صدر نے مختلف پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ توقع نہیں تھی کہ اپنے حملے اور عائد کردہ پابندیوں کے باوجود ہم ثابت قدم رہ سکیں گے، لیکن ہم ڈٹے رہے ہیں اور آئندہ بھی ثابت قدم رہیں گے۔
پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کبھی جنگ کا خواہاں نہیں رہا اور نہ ہی جنگ کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن وہ کسی بھی صورت زور زبردستی اور دھونس کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف ہمارے عقائد اور نظریات میں جڑیں رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ