مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی حملے اور تہران کی جانب سے خاموشی اختیار کرنے سے متعلق دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ امریکہ ایران سے کہے کہ ہم حملہ کریں گے اور آپ خاموش رہیں گے؟ اب حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران عملی طور پر ثابت کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ ان کے مطابق، ایران کے خاموش رہنے سے متعلق دعوے محض خیالی باتیں ہیں۔
امریکی حکام کی علاقائی فریقوں کے ساتھ ملاقاتوں سے متعلق سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت بھی مکمل طور پر امن کی حالت میں نہیں ہے۔ جب ملک کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری ہو تو ضروری ہے کہ ہر لمحے کسی بھی ممکنہ صورتحال کو مدنظر رکھا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے محافظ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرچکے ہیں اور جارحین کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مقبوضہ فلسطین کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک قانونی فریضہ بھی ہے کہ غزہ میں جاری مظالم کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں اسماعیل بقائی نے سیستان و بلوچستان سے تعلق رکھنے والی دو شہید خواتین، ڈاکٹر افتخاری اور عقیلہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ماں اور بہن کا قتل کسی معاشرے اور ملک کے خلاف بدترین جرم ہے۔ ان دونوں خواتین نے اپنی زندگیاں معاشرے کی ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔
آپ کا تبصرہ