مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، جن کے تحت ایران پر کئی روز تک حملے کیے جاسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ حملے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کیے جاسکتے ہیں۔ ممکنہ حملوں کے اہداف میں ایران کی میزائل اور ڈرون تنصیبات کے علاوہ توانائی کے مراکز اور جوہری تنصیبات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔
دی اٹلانٹک نے بعض امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے خیال میں اقتصادی دباؤ نے ایران کو معاشی اور سیاسی انہدام کے قریب پہنچا دیا ہے اور نئی فوجی کارروائیاں ایران کے سقوط کا سبب بن سکتی ہیں۔
تاہم، جریدے نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کے بعض اشاروں کے باوجود، امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں نے ایران پر حملے کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں، جنہیں امریکی صدر کی منظوری اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔
سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ تصادم دوبارہ شروع ہوا تو اس کی مدت مختصر، لیکن شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی توانائی اور جوہری تنصیبات کے خلاف نام نہاد مدر آف آل بمز یعنی سب سے بڑی غیر جوہری بموں میں سے ایک استعمال کرنا بھی زیرِ غور آپشنز میں شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ