24 اکتوبر، 2026، 3:42 PM

بھارت، مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں، اقوام متحدہ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے 20 سے زائد ماہرین نے بھارتی حکام سے مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کو فوری طور پر روکنے، اجتماعات پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت میں حالیہ مظاہروں کو روکنے اور ان کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، اقوام متحدہ کے 20 سے زائد ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ مظاہروں کی پُرامن نوعیت کے باوجود ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے غیر مسلح طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، ان پر لاٹھیوں سے حملے کیے اور ہزاروں افراد کو مظاہروں میں شامل ہونے سے روک دیا۔

ماہرین نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کریں، اجتماعات پر عائد وسیع پابندیاں ختم کریں اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذرائع کے غلط استعمال سے گریز کریں۔ ان ذرائع میں بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کا استعمال اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نئی دہلی میں ایک جج نے پیر کے روز ’’حزب سوسک‌ها‘‘ تحریک کے دو رہنماؤں کی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی۔ ان دونوں رہنماؤں کو اس فیصلے سے پانچ روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

مظاہرین بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے نریندر مودی کی قیادت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچا ہے۔

احتجاج کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام حذف کیے جانے کے نتیجے میں اہل شہریوں کو اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ اس اقدام کے اثرات غریبوں، بے گھر افراد اور مذہبی و نسلی اقلیتوں پر غیر متناسب طور پر پڑ رہے ہیں۔ ان میں مسلمان بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دینے کا امکان کم ہے۔

دوسری جانب، حکمران جماعت اور بھارتی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے۔ الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ ووٹر فہرستوں سے ایک جیسے ناموں کے اندراجات، فوت شدہ افراد اور رہائش تبدیل کرنے والے افراد کے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، جن افراد کے نام غلطی سے حذف ہوئے ہیں، وہ اس فیصلے کے خلاف شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

News ID 1942264

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha