مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبرانی زبان کے اخبار ہارٹز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی ماہرین اور سرمایہ داروں کی ریکارڈ سطح پر نقل مکانی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ لیور داتال کی تحریر کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنیامین نتن یاہو کی موجودہ کابینہ کے قیام کے بعد مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی کے اعداد و شمار غیر معمولی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آئندہ اسرائیلی انتخابات کے نتائج اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ اسرائیلی معیشت انسانی وسائل اور مالی سرمائے کے مسلسل انخلا کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی کے کئی اہم اشاریے تشویش ناک سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں تقریباً 70 ہزار اسرائیلی مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی کر گئے، جبکہ 2009 سے 2013 کے دوران نقل مکانی کرنے والوں کی سالانہ اوسط تعداد 40 ہزار سے کم تھی۔
اس کے برعکس، مقبوضہ علاقوں میں نقل مکانی کرکے آنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر سالانہ 20 ہزار سے بھی کم رہ گئی، جو اس حوالے سے کم ترین سطح تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران خالص نقل مکانی کا منفی توازن سالانہ تقریباً 10 ہزار 500 افراد تھا، لیکن 2024 میں یہ بڑھ کر تقریباً 30 ہزار افراد تک پہنچ گیا، جو گزشتہ اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، ماہرین، جامعات سے وابستہ شخصیات اور دیگر اہم انسانی وسائل کا تناسب زیادہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کی نقل مکانی میں اضافہ مجموعی اوسط کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 سے 2025 کے دوران تقریباً 1,400 ڈاکٹر مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی کر گئے، جو ایک دہائی پہلے اسی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی تعداد سے دو گنا زیادہ ہے۔
اسی طرح، انجینئرز، کمپیوٹر سائنس اور بنیادی سائنسی علوم کے ماہرین کی نقل مکانی کی شرح میں بھی تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، نوجوان خاندانوں کی نقل مکانی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 35 سے 45 سال کی عمر کے افراد اور 14 سال سے کم عمر بچوں کی نقل مکانی کی شرح تقریباً دو گنا ہو گئی ہے۔
سرمایہ دار طبقے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آمدنی کے لحاظ سے سب سے زیادہ کمانے والے ایک تہائی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد 2024 میں مجموعی نقل مکانی کرنے والوں کا 33.5 فیصد تھے۔
معیشت کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ
ہارٹز نے اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ماہرین اور سرمایہ داروں کی نقل مکانی کے نتیجے میں سالانہ ٹیکس آمدنی کو ہونے والا نقصان 2019 میں 50 کروڑ شیکل سے بڑھ کر 2024 میں 1.2 ارب شیکل تک پہنچ گیا۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں سالانہ مالی نقصان 3.5 ارب شیکل سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
اسرائیل کی اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ ہارل نے خبردار کیا ہے کہ انجینئرنگ، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم شعبوں سے ماہرین کا انخلا اسرائیل کے قومی استحکام اور فوجی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ماہرین اور سرمایہ داروں کی مسلسل نقل مکانی نہ صرف اسرائیل کی معیشت اور ٹیکس آمدنی کو متاثر کر رہی ہے، بلکہ اہم سائنسی، تکنیکی اور دفاعی شعبوں میں افرادی قوت کی دستیابی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کر رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ