دشمن خوفزدہ ہیں، مسلسل پیغامات بھیج رہے ہیں کہ انہیں نشانہ نہ بنائیں، کمانڈر سپاہ پاسداران انقلاب

سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ دشمن خوفزدہ ہیں اور کئی دنوں سے چوکس ہیں اور مختلف ملکوں کے ذریعے مسلسل پیغامات بھیج رہے ہیں کہ ہم ان پر حملہ نہ کریں۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی جمعہ کو سپاہ پاسداران انقلاب کے میزائل یونٹ کے سابق کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسن تہرانی مقدم کی 11ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کیا۔ جنرل حسین سلامی نے کہا کہ دشمن ایرانی قوم کے آگے بڑھنے کے راستے روکنے کے لیے ملک پر پابندیاں مزید سخت کر رہے ہیں جبکہ ان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عراقی کردستان کے علاقے میں انقلاب مخالف گروہوں کو نشانہ بنایا، سیٹلائٹ کیریئر کا تجربہ کیا، باور 373 میزائل ڈیفنس سسٹم کی رینج 300 کلومیٹر تک بڑھا دی اور آخر کار کل ہم نے ایک ایسا ہائپرسونک میزائل بنانے کا اعلان کیا جس کا کوئی ایئر ڈیفنس سسٹم مقابلہ نہیں کر سکتا۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر نے ملک کی حالیہ سامنے آنے والی تازہ ترین فوجی، تکنیکی اور دفاعی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کی ملک میں فسادات پھیلانے کی تمام مذموم کوششوں اور اندورنی مسائل میں الجھانے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران پیش قدمی کر رہا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے کہا کہ ہم نے دشمنوں سے کہا تھا کہ تم سے سکون چھین لیں گے اور ان کا سکون ضرور چھین لیں گے۔ وہ اب کئی دنوں سے بے چین ہیں اور الرٹ کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خوفزدہ ہیں اور ہمیں کہتے رہتے ہیں کہ ہم ان پر حملہ نہ کریں۔ ہمیں کئی ملکوں کے ذریعے مسلسل پیغامات بھیج رہے ہیں کہ انہیں نہ ماریں۔

جنرل سلامی نے زور دے کر کہا کہ ملک کی سلامتی کے خلاف فسادات کو ہوا دے کر دشمنوں کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قوم دشمنوں کے تمام اندازوں اور  حساب و کتاب کو بدل رہی ہے۔ دشمن نے غلطی سے سوچا کہ کچھ نوجوانوں کو میدان میں بھیج کر جو فریب خوردہ لیکن ہمارے اپنے تن کے پارے ہیں، ایک عظیم اور عالمی انقلاب کی شان و شوکت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمن ہمیشہ اپنی غلطیوں کی بنیاد پر خود کو رسوا کرتا ہے۔ اس بار بھی ہم انہیں ان کی اپنی غلطی سے شکست دیں گے۔

News Code 1913111

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha