1 اپریل، 2025، 10:59 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ؛

دھوکہ دہی سے دھمکیوں تک؛ ایران امریکی دباؤ کو ہر گز قبول نہیں کرے گا

دھوکہ دہی سے دھمکیوں تک؛ ایران امریکی دباؤ کو ہر گز قبول نہیں کرے گا

ایران نے امریکہ کی جانب سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کے باعث اسے ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے براہ راست مذاکرات سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی، سیاسی ڈیسک؛ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے لئے نہ صرف قابل اعتماد نہیں ہے بلکہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے غیر منصفانہ پابندیوں کا بھی استعمال کرتا آرہا ہے۔

واشنگٹن کی جوہری معاہدے سے دستبرداری

واشنگٹن نے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد فوجی دھمکیوں کے ذریعے ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کبھی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ 
اگر امریکہ معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے تسلیم کرنا ہوگا کہ ایرانی قوم کے حقوق کا احترام ہی سفارتی حل کا واحد راستہ ہے۔ 

 ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان برسوں کی بات چیت کے بعد طے پانے والے JCPOA نے ثابت کیا کہ ایران کا رویہ تعمیری رہا تاہم، یہ امریکہ ہی تھا جس نے صدر ٹرمپ کے دور میں 2018 میں اپنے تمام وعدوں کو توڑتے ہوئے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
 اس اقدام نے یہ ثابت کیا کہ امریکہ کسی بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا جب تک کہ وہ اپنے مفادات کو پورا نہ کرے۔ جب کہ ایران نے JCPOA کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

اگرچہ واشنگٹن نے اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے پابندیاں بحال کیں اور ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تاہم تہران نے ثابت کیا کہ وہ تسلط پسندانہ پالیسیوں کے خلاف ثابت قدم ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ 

جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ نے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اپنائی جس کا مقصد ایران کو مجبور کرنا تھا۔ تاہم، یہ پالیسی، بھی ناکام ہو گئی، جس پر ٹرمپ بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے۔

مسلسل دھمکیاں، سخت پابندیاں، سینئر ایرانی شخصیات کا قتل، اور دہشت گردوں کی حمایت تہران کے خلاف واشنگٹن کے معاندانہ اقدامات کی چند مثالیں تھیں، لیکن ایران نے دھمکیوں کو اہمیت نہیں دی۔

تہران کا واضح موقف ہے کہ اگر امریکہ مذاکرات کا خواہاں ہے تو اسے ایرانی قوم سے عزت کے ساتھ بات کرنا سیکھنا چاہیے، دھمکیوں سے بات نہیں بنے گی۔

مارچ کے اوائل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے تہران کو ایک خط بھیجا ہے، امید ہے کہ ایران مذاکرات کے لئے راضی ہو جائے گا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور اس ملک کی قیادت کو ایک خط بھیجا ہے۔

 کئی دنوں بعد متحدہ عرب امارات کے  اعلی عہدیدار انور قرقاش نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ کا خط ایران کے حوالے کیا، تاہم ٹرمپ کے خط کا متن ابھی تک ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

 اماراتی وفد کی طرف سے خط موصول ہونے کے ایک دن بعد، عراقچی نے زور دے کر کہا کہ جب تک واشنگٹن دھمکیوں کی پالیسی ترک کرکے سنجیدہ مذاکرات کی ضمانت نہیں دیتا، تہران امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ 

انہوں نے 'عزت، حکمت، مصلحت' کے اصولوں کے تحت مذاکرات کرنے کے لئے تہران کی خواہش کا اعادہ کیا۔ 

28 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران نے امریکی صدر کے خط کا جواب عمان کے ذریعے بھیج دیا ہے۔

 انہوں نے زیادہ سے زیادہ دباؤ اور فوجی دھمکیوں کے تحت براہ راست مذاکرات سے انکار کی ایران کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ البتہ بالواسطہ مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔ 

عراقچی نے امریکی خط کے جواب کے فوراً بعد اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران تہران کے پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے اس بات پر زور دیا کہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" اور "فوجی دھمکیوں" کے تحت براہ راست مذاکرات بے معنی ہیں۔ 

 30 مارچ کو ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے واضح طور پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے تاہم بالواسطہ مذاکرات کا آپشن میز پر موجود ہے۔ 

 انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکہ مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے تو اسے پہلے ماضی کی خلاف ورزیوں کو درست کرکے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔

 دریں اثنا، رہبر معظم انقلاب کے سینئر مشیر علی شمخانی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے خلاف مسلسل مخاصمت کی پالیسی اپنائی ہے۔
  انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران امریکی ہتھکنڈوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور اسے کوئی غیر متوقع حربہ نہیں سمجھتا۔

شمخانی نے واضح کیا کہ قوم کبھی بھی دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گی اور ایران طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت میں مصروف ہے، اس خط نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب بات چیت برابری کی بنیاد پر ہو۔ اگر یہ شرط پوری ہو جاتی ہے تو بات چیت کی طرف مزید قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔"

امریکہ کی سفارت کاری کے بجائے دھونس دھمکی

جس دن ایران نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی، ڈونلڈ ٹرمپ نے معاندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف بمباری اور نئی پابندیوں کی دھمکی دی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سفارت کاری پر دھمکیوں کو ترجیح دیتا ہے۔

اتوار کو این بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکی اور ایرانی حکام رابطے میں تھے لیکن انہوں نے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی: اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو بمباری ہو گی۔

 انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ثانوی پابندیاں بحال کر دیں گے جو چار سال پہلے لگائی گئی تھیں۔

 ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کے اعلیٰ عہدے داروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

رہبر معظم انقلاب  حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے واضح کیا کہ اگر دشمنوں نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی حماقت کی تو انہیں منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور اگر وہ ملک کے اندر بغاوت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو (ایرانی) قوم خود انہیں (مناسب) جواب دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا موقف جوں کا توں ہے جیسا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی ہے۔ 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر لکھا کہ "ایران کے خلاف کسی ملک کے سربراہ طرف سے "بمباری" کی دھمکی بین الاقوامی امن اور سلامتی کی روح کے خلاف ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر  اور ایٹمی توانائی ایجنسی کے پرٹوکول کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ متشدد روئے سے تشدد جنم لیتا ہے، جب کہ امن پسندی سے امن کو فروغ ملتا ہے، امریکہ کو راستے اور اس کے نتائج کا انتخاب کرنا ہوگا۔

  سپاہ پاسدارن انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکی افواج "شیشے کے گھر" میں بیٹھی ہیں اور انہیں "دوسروں پر پتھر پھینکنے" کی حماقت نہیں کرنی چاہیے۔

 انہوں مزید نے کہا کہ امریکیوں کے خطے میں 10 فوجی اڈے ہیں اور وہاں 50,000 فوجی تعینات ہیں۔" "اس کا مطلب ہے کہ وہ شیشے کے گھر میں بیٹھے ہیں؛ اور جو شیشے کے گھر میں بیٹھا ہو وہ دوسرے پر پتھر پھینکنے کی حماقت نہیں کرتا۔"

 امریکی حملے کی صورت میں ایران کے آپشنز

 اگر امریکہ فوجی کارروائی پر غور کرتا ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ ایران خاموش نہیں رہے گا۔ تہران اپنی فوجی طاقت، میزائل صلاحیتوں، علاقائی اتحادیوں کے ساتھ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے متعدد آپشنز رکھتا ہے۔
 اس بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایران اس صورت میں ہرمز کے راستے کو بند کر سکتا ہے۔

 ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری نے ملک کی فوجی صلاحیتوں کا اعادہ کرتے ہوئے میزائل ہتھیاروں پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کردیا۔

انہوں  نے واضح کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور  ایران اپنے میزائلوں یا مزاحمتی محاذ کی صلاحیتوں پر کبھی بھی بات چیت نہیں کرے گا۔

 انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم ہمیشہ خطے کے ممالک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ بطور مسلمان ہم اپنے پڑوسی ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔

 تنگسیری نے زور دیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم، اگر دشمن ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سخت جواب دیں گے۔

تنگسیری نے آبنائے ہرمز کو روکنے کے امکان کے بارے میں واضح کیا کہ اگرچہ یہ فیصلہ اعلیٰ عہدے داروں کے اختیار میں ہے، لیکن اگر ایسا کوئی حکم دیا جاتا ہے تو مسلح افواج اس پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس جگہ سے بھی ایران پر حملہ کیا جائے گا اسے جواب میں نشانہ بنایا جائے گا، ہم دشمن کے تمام ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ جہاں بھی ہوں، اگر ہم پر کسی بھی جغرافیائی محل وقوع سے حملہ کیا گیا تو ہم اسی جگہ پر جوابی حملہ کریں گے۔

ایڈمرل تنگسیری نے کہا کہ کوئی ہم پر حملہ کرکے بچ نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ اگر ہمیں خلیج میکسیکو تک ان کا پیچھا کرنا پڑے تو ہم ایسا کریں گے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور ہم ٹرمپ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر دھمکی دی گئی تو اس کا ردعمل فوری، فیصلہ کن اور پشیمانی کا باعث ہوگا۔ 

ایران کا جوہری پروگرام؛ پرامن اور قانونی

 بے بنیاد مغربی دعوؤں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں رہا ہے اور مکمل طور پر پرامن ہے۔ جب کہ صیہونی حکومت کے پاس سیکڑوں جوہری وار ہیڈز ہیں اور اس این پی ٹی پر دستخط بھی نہیں کئے، امریکہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں سے عالمی امن کو خطرہ ہے جب کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تاکید کی ہے کہ ایٹمی توانائی کا پرامن استعمال ہر قوم کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔

 اس کا کہنا ہے کہ ملک کی تمام جوہری سرگرمیاں شفاف اور بین الاقوامی نگرانی میں ہیں اور امریکا ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے محض بہانے استعمال کر رہا ہے۔ 

ایران نے بارہا کہا ہے کہ اگر واشنگٹن معاہدہ چاہتا ہے تو اسے ایران کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے اپنی تسلط پسندانہ پالیسیاں ترک کرنا ہوں گی۔ 

یہ بات واضح ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی پالیسیاں دھوکہ دہی اور تسلط پر مبنی ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن کو سمجھنا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی دباو کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

News ID 1931555

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha