مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوری ایران کے سفیر و ناظم الامور غلام حسین درزی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جوہری توانائی، ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی شق نمبر چار تمام رکن ممالک کے اس ناقابل تنسیخ حق کی توثیق کرتی ہے کہ وہ بلاامتیاز اور معاہدے کی پہلی اور دوسری شقوں کے مطابق پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور استعمال کو فروغ دے سکتے ہیں۔
ایرانی سفارت کار نے مزید کہا کہ اس کے باوجود بعض ممالک منظم انداز میں اس حق کو منفی رنگ دیتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو ریاستوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے قومی جوہری ایندھن کے مکمل چکر سے دست بردار ہو جائیں۔
درزی نے کہا کہ امریکہ، جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے، کھلے عام اس بات پر بھی سوال اٹھاتا ہے کہ آیا رکن ممالک کو یورینیم کی افزودگی سمیت جوہری ایندھن کے مکمل چکر پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ ایک طرف پُرامن جوہری توانائی کے حق کو تسلیم کرنے کا دعوی کرنا اور دوسری طرف دوسرے ممالک کو اس ضروری ٹیکنالوجی تک رسائی سے روکنا معاہدے کی شق نمبر چار کی خلاف ورزی ہے۔ کوئی بھی ملک یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ازسرنو تحریر نہیں کر سکتا اور نہ ہی دوسرے رکن ممالک کے جائز حقوق پر سیاسی ویٹو مسلط کرسکتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے مزید کہا کہ این پی ٹی کے تحت اپنے مسلمہ حقوق کے دفاع کے جواب میں امریکہ اور جوہری ہتھیاروں سے لیس صہیونی حکومت نے 2025 اور 2026 میں ایران کے خلاف جارحیت پر مبنی دو جنگیں شروع کیں اور ایران کی ان پُرامن جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی کے حفاظتی نظام کے تحت تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں ایران کے شہید رہبر بھی شامل تھے جن کے معروف فتوی میں جوہری ہتھیاروں اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے آئین، ایجنسی کی جنرل کانفرنس کی متعلقہ قراردادوں اور سلامتی کونسل کی 1981 میں منظور کردہ قرارداد 487 کی خلاف ورزی قرار دیا۔
درزی نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس، اس کے بورڈ آف گورنرز اور ڈائریکٹر جنرل میں سے کسی نے بھی ان حملوں کی مذمت نہیں کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی ان حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر جنرل نے بھی اسی ایجنڈے کے تحت آج اپنے خطاب میں ان حملوں کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ اس کے برعکس، ان کے بقول، متاثرہ ملک پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ جارحیت کے ذمہ دار احتساب سے بچ رہے ہیں۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ بعض مغربی وفود اب بھی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق نام نہاد خدشات کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن حفاظتی نگرانی کے تحت قائم پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل عدم پھیلاؤ کے اصول سے مستقل وابستگی نہیں، بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے اس اصول کا استعمال ہے۔
درزی نے اس مؤقف کو دوہرے معیار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران 1970 سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے اور اس نے ہمیشہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور سفارت کاری سے وابستگی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود ایران کے پُرامن جوہری پروگرام اور حفاظتی نگرانی کے تحت قائم تنصیبات کو سیاسی دباؤ اور فوجی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سیکریٹریٹ کی جانب سے تکنیکی تعاون فراہم نہ کرنے کے باعث ایران ان پُرامن جوہری ترقی کے فوائد سے محروم ہو رہا ہے، جن کے فروغ کی ذمہ داری خود ایجنسی پر عائد ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ