مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی نمائندے کی دستاویز میں بینکاری و مالی پابندیوں، ثانوی اور سرحد پار پابندیوں، فضائی و بحری نقل و حمل پر عائد پابندیوں اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے اثرات بینکوں، کمپنیوں اور دیگر اقتصادی اداروں کے ذریعے ایرانی عوام تک منتقل ہوتے ہیں۔
قانونی دستاویز میں خوراک، ادویات، طبی آلات، تعلیم، مالی خدمات اور دیگر بنیادی ضروریات تک عوام کی رسائی پر پڑنے والے اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
ایران نے یہ قانونی دستاویز اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں اور انسانی حقوق کے دیگر ماہرین کو بھیجی ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اقتصادی اقدامات کے قانونی و انسانی اثرات اور ایرانی شہریوں پر پڑنے والے نتائج کا جائزہ لیں اور بنیادی ضروریات تک عوام کی رسائی کے تحفظ اور ان اثرات میں اضافے کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔
آپ کا تبصرہ