24 اکتوبر، 2026، 8:10 PM

ٹرمپ ایران پر حملہ کیوں نہیں کر سکتا؟ عرب مبصر کا تبصرہ

ٹرمپ ایران پر حملہ کیوں نہیں کر سکتا؟ عرب مبصر کا تبصرہ

عبدالباری عطوان نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے سے ٹرمپ کے خوف کی وجوہات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں تہران امریکہ کے 3 طیارہ بردار بحری جہازوں اور 20 جنگی بحری جہازوں کو غرق کر دے گا اور تل ابیب و حیفا کو خاک میں ملا دے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے کے تزویراتی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے ایک مضمون میں ایران کے خلاف امریکی-صیہونی اتحاد کی ممکنہ اور قریب الوقوع جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کی تیاریوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ تہران نے سیاسی، ذرائع ابلاغ اور نفسیاتی محاذوں پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔

عطوان نے غاصب صیہونی حکومت کی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کی جانب سے ’’فادر آف میزائل‘‘ کے استعمال کی دھمکی اور سردار مہرداد اخلاقی کی وزیرِ دفاع کے طور پر تقرری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سردار اخلاقی نے اپنی زندگی کے 42 سال فوجی اور میزائل صنعتوں کی نگرانی اور ان کی ترقی کے لیے صرف کیے ہیں، تاکہ انہیں موجودہ جدید طاقت اور مؤثریت کی سطح تک پہنچایا جا سکے۔

عطوان کے مطابق، یہ ایک کامیاب انتخاب تھا۔

ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد سے کیوں خوف زدہ ہے؟

عطوان نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کو خوف زدہ کرنے اور ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں پر عمل درآمد سے روکنے والی چیز وہ حقائق ہیں جو وائٹ ہاؤس میں ان کی میز اور آپریشن رومز میں موجود ہیں۔ ان حقائق کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:

اول: امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کی رپورٹ، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تہران کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں جدید بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

دوم: موجودہ جنگ کے آٹھ ماہ کے دوران ایران کی فوجی قیادت نے بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اعتراف کے مطابق، یہ میزائل یورپ میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے پر تعینات امریکہ کے تمام بڑے بمبار طیاروں، یعنی ’’بی۔2 اسپرٹ‘‘ اور ’’بی۔52‘‘ کو تیزی سے وہاں سے نکالنے کی وجہ بھی ایران کے پاس انہی میزائلوں کی موجودگی ہو۔

سوم: سپاہِ پاسداران کے ترجمان جنرل حسین محبی کا بیان کہ حالیہ جنگ کے دور کے آغاز سے اب تک ایرانی میزائلوں کے معیار اور تعداد میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا ہے اور ان کی مار کرنے کی صلاحیت بھی ڈیڑھ گنا بڑھ گئی ہے۔ ان میں سے بعض میزائلوں کی بُرد 2 ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے اور وہ جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی بات بحرِ ہند کے انتہائی مشرقی اور دور دراز مقام پر واقع امریکی فوجی اڈے ’’ڈیگو گارسیا‘‘ تک ان میزائلوں کی رسائی کی توجیہ کرتی ہے۔

چہارم: ایران کی نئی فوجی تنصیبات چٹانی پہاڑوں کی گہرائی میں تعمیر کی گئی ہیں، جہاں تک امریکہ کا ’’مادر آف آل بمز‘‘ بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس بم کا وزن 9.8 ٹن ہے اور یہ زمین میں 60 میٹر گہرائی تک نفوذ کر سکتا ہے۔

پنجم: ایران کے میزائلوں کے ذخیرے میں مختلف سائز اور مار کرنے کی مختلف صلاحیتوں کے حامل میزائلوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان میں عماد، سجاد، شہاب اور خرمشہر کے میزائلوں سے لے کر خیبر جیسے کلسٹر وارہیڈ والے میزائل اور فراصوت میزائل فتح تک شامل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد کی جانب سے دوبارہ جارحیت کی صورت میں یہ تمام میزائل استعمال کیے جائیں گے۔

عطوان نے مزید کہا کہ نیتن یاہو امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی جانب دھکیلنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اسے اپنے بحرانوں سے نجات حاصل کرنے اور اپنی باقی ماندہ زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ختم ہونے سے بچانے کی آخری کوشش سمجھتا ہے۔

جنگ، امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد پورے نہیں کر سکتی

عطوان نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے آٹھ ماہ تک مختلف قسم کے ہتھیاروں کے ذریعے جنگ مسلط کرنے کے باوجود ٹرمپ اور نیتن یاہو کا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ ان مقاصد میں سب سے نمایاں آبنائے ہرمز کو کھلوانا اور ایرانی عوام کو اس وقت تک بھوکا رکھنا تھا، جب تک عوامی بغاوتیں نہ پھوٹ پڑیں۔

انہوں نے لکھا کہ ہمارا یقین ہے کہ نئی جارحیت بھی ان پرانے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکے گی، بلکہ اس کے برعکس ایران کے میزائل ہی امریکہ کے تین طیارہ بردار بحری جہازوں اور تقریباً 20 جنگی بحری جہازوں کو تباہ یا ناکارہ بنا دیں گے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تل ابیب، حیفا، ایلات، صفد اور عسقلان کے جو حصے باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی تباہ کر دیے جائیں گے۔

News ID 1942336

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha