مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی عرب کی فضائی حدود کی سلامتی سے متعلق نئے انتباہات اور یمن کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والی مسلسل فوجی کارروائیوں کے تناظر میں متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے پروازوں کے راستوں میں تبدیلی کی خبر دی ہے۔
اخبار نے ہوا بازی کی سلامتی کے شعبے میں سرگرم بین الاقوامی ادارے اوپس گروپ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس ادارے نے سعودی عرب کی فضائی حدود کو تمام بلندیوں پر غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ اس انتباہ کے بعد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنے پروازوں کے راستوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے اور سعودی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کی تعداد کم کر دی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، یمن کی حالیہ فوجی کارروائیوں نے ان فضائی کمپنیوں کے اندازوں کو تبدیل کر دیا ہے جو اس سے قبل سعودی عرب کی فضائی حدود کو نسبتاً محفوظ گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔ اس صورت حال کے باعث بعض کمپنیوں نے اپنے پروازوں کے راستے وسطی ایشیا اور دیگر علاقوں کی جانب منتقل کر دیے ہیں، جن میں شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب سے گزرنے والے راستے بھی شامل ہیں۔
اخبار نے مزید بتایا کہ برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز، جو خطے میں امریکی اڈوں پر ایران کے بار بار حملوں کے باوجود سعودی فضائی حدود استعمال کر رہی تھی، اسے بھی یمن کی حالیہ کارروائیوں کے بعد اپنی پروازوں کے راستوں میں تبدیلی کرنا پڑی ہے۔ کمپنی نے ممبئی سے لندن جانے والی اپنی پروازوں کے ایک بڑے حصے کا راستہ وسطی ایشیا کی جانب منتقل کر دیا ہے تاکہ سعودی فضائی حدود سے گزرنے سے بچا جا سکے۔
اسی طرح بھارتی فضائی کمپنی نے بھی یورپ جانے والی اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔ اب یہ پروازیں سعودی عرب کے وسطی حصے سے گزرنے کے بجائے اس کی شمالی سرحدوں کے قریب اور شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات سے گزرنے والے راستے اختیار کر رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ