مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے نیویارک میں ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہماری شرکت انتہائی مؤثر اور بھرپور رہی۔ صدر مملکت آج تہران واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی حاضری بہت اہم تھی۔ انہوں نے متعدد انٹرویوز دیے، مختلف حکام سے ملاقاتیں کیں اور جنرل اسمبلی میں انتہائی اہم خطاب کیا۔ ان کے ساتھ ساتھ میں نے بھی مختلف حکام اور اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام ملاقاتوں میں ہمارا مرکزی مؤقف آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے اپنی شرائط بیان کرنا تھا۔ ہم ان شرائط کی وضاحت، انہیں پیش کرنے اور ان کا دفاع کرنے کے پابند تھے۔ صدر مملکت اور میری تمام ملاقاتوں میں یہی کام انجام دیا گیا۔
عراقچی نے کہا کہ ان شرائط کو ثالثوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں منتقل کیا گیا اور انہیں مکمل طور پر سمجھایا گیا، جس کے بعد ثالثوں نے بھی یہ شرائط امریکی فریق تک پہنچا دیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں ہم نے ان شرائط کی منطق اور اپنی پالیسی کے مؤقف کا دفاع کیا۔ دنیا کے تمام ممالک اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایران نے جس طرح اپنے ملک کا مضبوط دفاع کیا، اسی طرح سفارتی میدان میں بھی مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ بالخصوص مختلف منصوبے پیش کرنے اور سفارت کاری کے لیے راستہ متعین کرنے کے ذریعے ایران سفارتی فضا کو اپنے حق میں آگے بڑھانے میں کامیاب رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم نے جو منصوبے پیش کیے، ان کی وضاحت انٹرویوز اور ملاقاتوں میں کی گئی اور ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی۔ اس حوالے سے پہلا ردعمل امریکی صدر کی جانب سے سامنے آیا، تاہم ثالثوں کی جانب سے ابھی تک ہمیں کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔
عراقچی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم امریکی صدر کی جانب سے بہت سے متضاد بیانات سن رہے ہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ثالثوں کی جانب سے حتمی مؤقف ہمیں بتایا جائے، جس کے بعد اسی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ بہرحال ہماری شرائط واضح ہیں اور کسی بھی پیش رفت کا انحصار ان شرائط کے پورا ہونے پر ہے۔
عراقچی نے ایرنا کے نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں کہ ایران کی جانب سے مختلف منصوبے اور اقدامات پیش کیے جا رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں، مستقبل کے امکانات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کہا کہ ایرانی عوام کے لیے مستقبل واضح ہے۔ ہمارے عوام نے دنیا کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ فوجی، سفارتی اور اقتصادی میدانوں میں، حتیٰ کہ پابندیوں کے مقابلے میں بھی کر دیا ہے۔ ہمارے دشمن تمام راستے آزما چکے ہیں، لیکن وہ جس راستے پر بھی گئے، انہیں کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
آپ کا تبصرہ