مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے کی مدت اس وقت سے شروع ہوگی جب امریکہ اس منصوبے کو قبول کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کل ہی اس منصوبے کو قبول کر لے تو اس پر عملدرآمد اسی وقت سے شروع ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ضروری اقدامات مکمل ہونے کی صورت میں اس عمل کو چار یا پانچ روز کے اندر پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں چھٹے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور ساتویں روز امریکہ حتمی معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل میں شامل ہو سکے گا۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکہ کو جن اقدامات کی انجام دہی کرنا ہے، ان سے اسے پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا ہے اور وہ ایک مفاہمتی دستاویز کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا ممکن ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سفارت کاری سے اپنی مضبوط وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔ یہ وابستگی جوہری معاہدے تک پہنچنے والے مذاکرات، اس معاہدے پر عملدرآمد اور گزشتہ دو برسوں کے دوران سفارتی کوششوں کے تسلسل میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جارحانہ اقدامات کا سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود ایران نے سفارت کاری کے راستے کو ترجیح دی۔ امریکہ نے اس کے برعکس جارحیت، دھمکیوں، ٹارگٹ کلنگ، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی قوانین سے کھلی بے اعتنائی کا راستہ اختیار کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اور ملک کے بعض اعلیٰ سیاسی و عسکری عہدیداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور سنگین جرم تھا۔
عراقچی کے مطابق رہائشی علاقوں، اسکولوں، اسپتالوں، توانائی کے مراکز، کھیلوں اور ثقافتی مقامات، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے میناب میں 168 طلبہ اور اساتذہ کی شہادت م، لامرد کے اسٹیڈیم پر کلسٹر بم حملے، رہائشی گھروں پر بھاری بمباری اور سیریک میں ایک شادی کی تقریب پر میزائل حملے کو ان کارروائیوں کی مثالیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود امریکی صدر اور قابض اسرائیلی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے حقائق کو مسخ کرنے اور متاثرہ فریق کو ہی قصوروار ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم امریکہ اور اسرائیل ایرانی عوام کے خلاف اپنے اقدامات کو جائز ثابت نہیں کر سکتے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے اقتصادی پابندیوں اور معاشی محرومی کو اجتماعی سزا اور سیاسی دباؤ کے ایک آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ پالیسیاں دانستہ طور پر ایرانی عوام کو شدید اور قابلِ پیش گوئی نقصان پہنچا رہی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق، جن میں زندگی، صحت، ادویات اور خوراک تک رسائی شامل ہے، براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ یہ سفارت کاری نہیں بلکہ جبر اور معاشی دہشت گردی ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جانب سے 3 اکتوبر 2018 کو جاری کیے گئے عبوری احکامات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق حالیہ الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فنی اور قانونی جائزوں کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے، حقیقت کے منافی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ الزام پہلی مرتبہ 2003 میں اسرائیل کی جانب سے سامنے لایا گیا تھا اور اس کے بعد امریکہ اور بعض یورپی ممالک مسلسل اسے دہراتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران 1970 سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے اور کئی دہائیوں سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ ایک طرف جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے دفاع کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے، جو اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران محفوظ اور آزاد بحری آمد و رفت کے اصول کا پابند ہے، لیکن سمندری سلامتی کو مزید فوجی اقدامات، دھمکیوں، ناکہ بندیوں یا معاشی دباؤ کے ذریعے بحال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ 28 فروری 2026 تک آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی اور وہاں بحری نقل و حمل معمول کے مطابق جاری تھی، لیکن موجودہ صورتحال اور سمندری آمد و رفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی ملک پر بمباری کرنے، اسے تباہی کی دھمکیاں دینے، اس کے خلاف سمندری ناکہ بندی اور دیگر سخت اقدامات نافذ کرنے کے بعد یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ سلامتی اور تجارتی نقل و حمل خود بخود معمول پر واپس آ جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی ذمہ داری بعض علاقائی ممالک پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے منشور اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سرزمین، فوجی اڈے، فضائی حدود، لاجسٹک سہولیات اور انٹیلی جنس وسائل ایسے اقدامات کے لیے فراہم کیے جن سے ایران کے خلاف کارروائیوں کو سہولت ملی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ نے 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس مفاہمتی دستاویز کی پانچویں شق کے تحت ایران نے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا عہد کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے اس مقصد کے لیے فوری طور پر عمان کے ساتھ فنی مذاکرات شروع کیے تاکہ جنگ سے پہلے کی سطح پر بحری نقل و حمل بحال کی جا سکے۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے دو ہفتوں کے اندر سمندری آمد و رفت جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ساٹھ فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بعد ازاں امریکہ کی یکطرفہ کارروائیوں اور فوجی اقدامات نے اس مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو معطل کر دیا۔ امریکہ نے معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے استفادہ کرنے کے بجائے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔
عراقچی نے کہا کہ اس کے باوجود ایران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ان کے بقول گزشتہ دو برسوں کے دوران ایران مسلسل نیک نیتی کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک رہا، لیکن امریکہ نے ہر مرحلے پر منفی رویہ اختیار کیا اور سفارتی ذرائع کے بجائے فوجی دباؤ کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ ان تجربات کے نتیجے میں ایسی کسی بھی نئی مذاکراتی کوشش کے بارے میں گہرا عدم اعتماد پیدا ہوا ہے جس میں مستقبل میں اسی نوعیت کے اقدامات کی روک تھام کے لیے قابلِ اعتماد ضمانتیں موجود نہ ہوں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اسی بنا پر ایران نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ایک واضح سات روزہ منصوبہ پہنچایا ہے، جس کے تحت اگر ضروری شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور سمندری آمد و رفت سات روز کے اندر معمول پر واپس آ سکتی ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایران دباؤ، دھمکی یا خوف و ہراس کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی دباؤ کے تحت اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا قیام اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے قانون کی جگہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کا منشور اختیاری دستاویز نہیں، بلکہ تمام رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے اصولوں کی پاسداری کریں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ قومی خودمختاری کو مشروط نہیں کیا جا سکتا اور سفارت کاری کا مطلب ہتھیار ڈال دینا نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن دھمکیوں، دباؤ یا تباہی کے خوف پر قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے باہمی احترام، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے حقوق، قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا رہے گا، لیکن ساتھ ہی اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع سے بھی دستبردار نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ