مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے کہا کہ ہم نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن جب بھی ہم پر حملہ کیا جاتا ہے تو ہمیں اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ہم جنگ شروع کرنے والے نہیں تھے اور نہ جنگ شروع کرنے والے ہوں گے، لیکن اگر کوئی ہم سے جنگ کرنا چاہے گا تو ہم بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاکہ ہمیں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے دائرے سے باہر جا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے، لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہم نے آبنائے ہرمز بند نہیں کی تھی، آبنائے ہرمز کھلی تھی۔ انہوں نے بغیر کسی قانونی جواز کے ہم پر حملہ کیا، ہمارے رہبر، کمانڈروں اور سائنس دانوں کو شہید کیا اور ہمارے بچوں کے اسکول پر بمباری کی، جہاں 168 طلبہ موجود تھے۔
پزشکیان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں درج امور پر عمل درآمد کے دوران کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ان غلط فہمیوں کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے بجائے معاملہ کشیدگی اور جھڑپوں تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں پوری مفاہمتی یادداشت ہی سوالیہ نشان بن گئی۔ اگر ہم مفاہمتی یادداشت کے مطابق عمل کرنا چاہیں تو یقیناً راستے میں کچھ مسائل بھی پیش آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں آپ کے صدر نے اعلان کیا کہ 70 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ہم نے ان تمام افراد کے نام اور قومی شناختی نمبر جاری کیے ہیں جو ان واقعات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کی تعداد 3015 ہے۔
پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ اگر مزید افراد بھی ہیں تو ان کے نام سامنے لائے جائیں۔ 70 ہزار، 10 ہزار یا 40 ہزار افراد کی ہلاکت کے اعداد و شمار کے بارے میں بھی کوئی شخص آکر اسے ثابت کرے۔ یہ اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ اپنی جان سے ہاتھ دھونے والے تین ہزار سے زائد افراد میں تقریباً 500 افراد پولیس اور سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھتے تھے۔
آپ کا تبصرہ