مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی نے قم المقدسہ میں ہفتہ وار درسِ اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے 13 آبان کی مناسبت سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور معاشرے کے علمی حلقوں کی قرآن کریم کی تعلیمات کی طرف واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔
استاد حوزہ علمیہ قم نے کہا کہ اولیائے الٰہی وہ لوگ ہیں جو خود قرآن کے محور پر زندگی گزارتے ہیں اور معاشرے کو بھی قرآن محوری کی جانب لے کر چلتے ہیں۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات میں اولیائے الٰہی کے مقام و منزلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کے نورانی کلمات کے مطابق، قرآن اولیائے الٰہی کی برکت سے پہچانا جاتا ہے اور انہی کے ذریعے معاشرے میں اسے عملی طور پر نافذ کیا جاتا ہے؛ لہٰذا قرآن کے فہم اور اس پر عمل کو فروغ دینے کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو علم و دانش اور معاشرے کی رہنمائی کے میدان میں کردار ادا کرتے ہیں۔
شیعہ مرجع تقلید نے کہا کہ حوزہ ہائے علمیہ اور جامعات پر معاشرے کو قرآنی تعلیمات سے آراستہ کرنے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر قرآن کو علم و دانش کی بنیاد بنانا ہے تو حوزہ اور یونیورسٹی کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی اور اگر معاشرے کی تحریک و جدوجہد کو بھی وحیانی تعلیمات کی بنیاد پر استوار کرنا ہے تو اس سلسلے میں بھی علماء اور دانشوروں کا بنیادی فریضہ ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے واضح کیا کہ معاشرتی زندگی میں قرآن کی موجودگی صرف قرأت اور تلاوت تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کی تعلیمات کو سمجھنا اور انہیں علم، کردار اور اجتماعی سرگرمیوں کے میدان میں بروئے کار لانا ضروری ہے۔
استادِ حوزہ علمیہ قم نے اس بات پر زور دیا کہ قرآنِ کریم محض تلاوت اور ثواب حاصل کرنے کی کتاب نہیں، بلکہ یہ معرفت اور علمی تحقیق کی کتاب ہے، جو انسان کو کائنات، تخلیق اور نظامِ ہستی کے بارے میں آگاہی عطا کرتی ہے۔ اس لیے کہ عالمِ ہستی کے تمام اجزا نظم، علم اور حساب و کتاب کے تحت تخلیق کیے گئے ہیں اور نظامِ تخلیق میں کوئی بھی مظہر علت اور ضابطے کے بغیر وجود میں نہیں آیا۔
مرجع تقلید نے انسانی علوم اور نظامِ تخلیق کے باہمی تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان اپنا علم اس کائنات اور ان صلاحیتوں سے حاصل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہیں۔ فطرت اور اس پر حاکم قوانین کی معرفت ہی مختلف علوم کی تشکیل کا ذریعہ بنتی ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے علماء اور علمی معاشرے کے قرآنِ کریم سے مسلسل تعلق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ قرآن سے ہمارا تعلق صرف مخصوص مناسبتوں اور خاص راتوں میں تلاوت تک محدود ہو، بلکہ ہر شخص کو اس الٰہی کتاب کی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ جس طرح دیگر دروس کے لیے باقاعدہ نظام الاوقات مرتب کیا جاتا ہے، اسی طرح قرآن کے مطالعے اور اس پر علمی مباحثے کو بھی افراد کے علمی پروگرام کا حصہ بنایا جائے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے پر آیات کے بنیادی مضامین اور ان کے مرکزی پیغام کو سمجھنا ضروری ہے اور اگر مزید گہری معرفت حاصل کرنے کی ضرورت ہو تو معتبر تفاسیر سے استفادہ کیا جائے۔
انہوں نے اپنی تفسیر تسنیم کی تدوین کو حوزہ علمیہ کے علمی معاشرے کی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اثر کسی ایک فرد کی انفرادی کوشش کا حاصل نہیں، بلکہ تقریباً چار دہائیوں پر محیط علمی جدوجہد اور حوزہ علمیہ کے محققین کی چار نسلوں کی مشترکہ محنت کا ثمر ہے، جنہوں نے ان برسوں کے دوران سوالات اٹھا کر اور علمی آرا پیش کرکے قرآن کی تعلیمات کی وضاحت کے لیے کوششیں کی ہیں۔
شیعہ مرجع تقلید نے کہا کہ قرآن کی تفسیر کے سلسلے میں اب تک کی گئی تمام کوششیں بھی اس الٰہی کتاب کے وسیع معارف کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شخص کو قرآن پڑھنے والا اور قرآن کا محقق بننا چاہیے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے حق و باطل کے درمیان کشمکش میں سنتِ الٰہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حق کی فتح کو قرآنِ کریم کے قطعی وعدوں میں سے قرار دیا اور کہا کہ قرآن کی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ حق و باطل کے معرکے میں بالآخر حق ہی کامیاب ہوگا اور باطل، حق کے مقابلے میں پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے قرآنی آیت «لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ» کے حوالے سے کہا کہ یہ محض مستقبل کے بارے میں ایک خبر نہیں، بلکہ ایک سنتِ الٰہی اور نظامِ تخلیق پر حاکم قانون کی وضاحت ہے، جس کے مطابق حق کو باطل پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔
استادِ حوزہ علمیہ قم نے دشمنوں کے حملوں اور رہبر، دانشوروں، عوام کے ایک گروہ اور بسیجیوں، بالخصوص میناب کے بچوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے ملک پر حملہ کرکے نقصانات پہنچائے اور ہمارے عزیزوں کی ایک تعداد شہید ہوئی، لیکن اسلامی معاشرے کو حق کی فتح کے بارے میں وعدۂ الٰہی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
مرجع تقلید نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی محاذِ حق کے مقابلے میں شکست یقینی ہے، کہا کہ قرآن اہلِ ایمان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں انہیں پریشانی اور شک و تردید کا شکار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ حق کی فتح اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اسی سنتِ الٰہی کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کی کامیابی یقینی ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا کہ قرآن میں اس حقیقت پر تاکید کا مقصد یہ ہے کہ اہلِ ایمان باطل کے مقابلے میں خوف زدہ نہ ہوں اور وعدۂ الٰہی پر یقین رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ