4 نومبر، 2026، 10:19 PM

"جانشین"؛ ایک جرمن محقق کی نظر میں جانشینیِ پیامبرِ اسلام اور حضرت فاطمہ(س) کا مقام

"جانشین"؛ ایک جرمن محقق کی نظر میں جانشینیِ پیامبرِ اسلام اور حضرت فاطمہ(س) کا مقام

فطرس میڈیا کی تازہ ترین دستاویزی فلم "جانشین"، آکسفورڈ یونیورسٹی کے سابق استاد اور نامور جرمن اسلام شناس "ویلفرڈ میڈیلنگ" کی تحقیقات پر مبنی ہے۔ اس ڈاکیومنٹری میں تاریخ اسلام کے ایک انتہائی اہم تنازع اور جانشینی پیامبرِ اسلام کے مسئلے پر اس محقق کے ازسرِنو جائزہ لیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ ڈاکیومنٹری "جانشین" میں ویلفرڈ فردیناند میڈیلنگ کی تاریخی اور قرآنی تحریروں کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی جانشینی کے مسئلے کا ایک مختلف زاویہ پیش کرتی ہے۔ ایسا مسئلہ جو رحلت پیامبر کے ابتدائی دنوں سے ہی شروع ہوا اور مسلمانوں کے درمیان اہم ترین اختلافات کی بنیاد بنا۔

تاریخ اسلام کے نامور محقق نے 1997 میں اپنی مشہور کتاب "دی سسیشن ٹو محمد" (جانشینیِ محمد) شائع کی۔ اس کتاب میں تاریخی ماخذ اور آیات قرآن کا جائزہ لیتے ہوئے رحلتِ پیامبر کے بعد کے سیاسی تنازعات کا ازسرنو مطالعہ اور حضرت علی بن ابی طالب (ع) کے مقام اور جانشینی کے مسئلے میں خاندانِ پیامبر (اہلِ بیت) کے حقوق پر زور دیا گیا ہے۔

تقریباً دو دہائیوں کے بعد اس جرمن محقق نے اپنی تحقیقات پر دوبارہ نظرثانی کی۔ اس بار حضرت فاطمہ زہرا (س) کے نام کو جانشینی کے اس مرکزی مسئلے میں لاکھڑا کیا۔ میڈیلنگ کے نئے نظریے کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا (س) حضرت محمد (ص) کی جانشینی کے لیے سب سے اہم ترین شخصیت تھیں۔

دستاویزی فلم "جانشین" میں اس فکری تبدیلی کی عکاسی کرتے ہوئے میڈیلنگ کی تحقیقات میں حضرت فاطمہ (س) کے مقام کا جائزہ لیا گیا ہے اور ناظرین کے سامنے ایک ایسا سوال پیش کیا گیا ہے جس پر پہلے کم توجہ دی گئی ہے: کیا جانشینیِ پیامبر اسلام کا تنازع ابتدائی خلافت کی معروف شخصیات کے درمیان مقابلے سے کہیں زیادہ وسیع تر ابعاد رکھتا تھا؟

یہ دستاویزی فلم فطرس میڈیا کی پیشکش ہے، جو تاریخی اور تحقیقی نقطہ نظر کے ساتھ جانشینیِ پیامبرِ اسلام اور اس میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کے کردار پر جدید مطالعہ جات کے ایک کم جانے پہچانے پہلو کو بیان کرتی ہے۔

News ID 1942610

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha