30 اکتوبر، 2026، 10:05 AM

اسرائیل میں سیاسی تعطل؛ کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں

اسرائیل میں سیاسی تعطل؛ کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق کوئی بھی سیاسی اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں کرسکا، جس کے باعث تل ابیب میں سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی نے فوجیوں، قیدیوں، مریضوں اور دیگر ایسے افراد کے دوہرے لفافوں میں ڈالے گئے ووٹوں سمیت تمام ووٹوں کی گنتی مکمل کرلی ہے جو عام پولنگ اسٹیشنوں پر حاضر نہیں ہوسکے تھے۔ مجموعی طور پر 56 لاکھ 97 ہزار 290 ووٹ ریکارڈ کیے گئے، جن میں 55 لاکھ 64 ہزار 764 درست اور 25 ہزار 72 مسترد شدہ ووٹ شامل ہیں۔

حتمی اعداد و شمار کے مطابق کوئی بھی سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکا۔ نیتن یاہو کی قیادت میں قائم اتحاد نے 53 نشستیں، گادی آیزنکوٹ کی سربراہی میں مخالف اتحاد نے 48 نشستیں، جبکہ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات (کنیسٹ) کے نتائج کی گنتی مکمل ہونے اور حکمران اتحاد کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی صدر کی اہم سیاسی مشاورت کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔

کنیسٹ میں جماعتوں کی نشستوں کی حتمی تقسیم کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے 27، گادی آیزنکوٹ کی جماعت یشار نے 21 اور نفتالی بینیٹ و یائیر لاپید کے اتحاد بیخاد نے 12 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تین عرب جماعتوں کے مشترکہ اتحاد نے 11، متحدہ عرب فہرست اور ڈیموکریٹس پارٹی نے آٹھ، آٹھ نشستیں حاصل کیں۔

اسی طرح یہودیت ہتوراہ، اسرائیل ہمارا گھر اور عوتسما یہودیت جماعتوں نے سات، سات نشستیں حاصل کیں، جبکہ شاس اور مذہبی صہیونیت جماعتوں کے حصے میں چھ، چھ نشستیں آئی ہیں۔

دوسری جانب دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد تل ابیب میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گادی آیزنکوٹ نے شاباک کے سربراہ اور مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس کے بعد نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکوڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو مشکوک بنانے اور ان کی ساکھ ختم کرنے کے لیے منظم مہم چلا رہے ہیں۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نگران اداروں نے انتخابی سرگرمیوں سے متعلق بعض شکوک و شبہات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انتخابی کمیٹی کے حکام نے زور دیا ہے کہ ان معاملات سے انتخابی نتائج کی مجموعی صورتحال متاثر نہیں ہوگی۔

اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعلان کے مطابق، حتمی نتائج کی جانچ پڑتال اور قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد بدھ 4 نومبر کو باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں گے۔ اس کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کنیسٹ میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت شروع کریں گے تاکہ کسی ایک رہنما کو حکومت تشکیل دینے کا اختیار سونپا جاسکے۔ نئے منتخب ہونے والے کنیسٹ کے ارکان 10 نومبر کو حلف اٹھائیں گے۔

News ID 1942476

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha