29 اکتوبر، 2026، 10:54 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ

اسرائیلی انتخابات میں کوئی واضح فاتح نہیں، سیاسی بحران برقرار

اسرائیلی انتخابات میں کوئی واضح فاتح نہیں، سیاسی بحران برقرار

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں کوئی بھی بڑا سیاسی دھڑا حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کرسکا، جس کے باعث نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف گادی آیزنکوٹ دونوں کو حکومت تشکیل دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، اسرائیلی پارلیمانی انتخابات ایسے حالات میں اختتام پذیر ہوئے ہیں کہ کسی بھی بڑے سیاسی دھڑے کو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ ابتدائی نتائج اسرائیلی سیاسی نظام میں تعطل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کی جماعت نے بعض پیش گوئیوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، تاہم ان کے سیاسی اتحاد کی نشستوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ دوسری جانب، ان کے اہم حریف گادی آیزنکوٹ بھی اب تک حکومت سازی کے لیے کوئی واضح راستہ متعین نہیں کرسکے ہیں۔

حتمی نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کی سربراہی میں لیکوڈ پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔ تاہم، کسی ایک جماعت کی نشستوں کی تعداد ہی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتی، کیونکہ اسرائیلی پارلیمان کی 120 نشستوں میں حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور کم از کم 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔

اعلان کردہ نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو تقریباً 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ آیزنکوٹ کی قیادت میں مخالف دھڑے کے پاس تقریباً 48 نشستیں ہیں۔ دوسری جانب، عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جس سے حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

نتن یاہو کی جیت، اکثریت سے محرومی

نیتن یاہو کے اتحاد کو گزشتہ پارلیمانی دور کے مقابلے میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ سابقہ پارلیمان میں ان کے اتحاد کے پاس 68 نشستیں تھیں، لیکن موجودہ انتخابات میں یہ تعداد گھٹ کر 53 رہ گئی ہے۔

نیتن یاہو اپنی جماعت کی سب سے زیادہ نشستوں کو انتخابی کامیابی قرار دے سکتے ہیں، لیکن یہ نتیجہ سیاسی فتح کے مترادف نہیں ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ان کی قیادت میں قائم سیاسی دھڑے کو پارلیمان میں اپنی حمایت برقرار رکھنے میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس تناظر میں انتخابی نتائج کا جائزہ صرف لیکوڈ پارٹی کے پہلے نمبر پر آنے کی بنیاد پر نہیں لیا جاسکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کون سا سیاسی دھڑا حکومت تشکیل دینے اور داخلی اختلافات و سیاسی دباؤ کے باوجود اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نیتن یاہو کو اقتدار میں رہنے کے لیے ایسے اتحادیوں کی حمایت درکار ہے جو پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت فراہم کرسکیں، لیکن موجودہ نتائج اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ وہ آسانی سے ایسا اتحاد قائم کرلیں گے۔ اس طرح طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ان کی سیاسی پوزیشن کو سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔

آیزنکوٹ بھی منزل سے دور

دوسری جانب، گادی آیزنکوٹ بھی خود کو انتخابات کا قطعی فاتح قرار نہیں دے سکتے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کے مخالف سیاسی دھڑے کو تقریباً 48 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جس کے بعد حکومت بنانے کے لیے اسے مزید ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

تاہم، نیتن یاہو کے سب سے بڑے حریف کے طور پر سامنے آنا حکومت تشکیل دینے کی صلاحیت کا ثبوت نہیں ہے۔ آیزنکوٹ کو مخالف جماعتوں کے ساتھ موجود اختلافات دور کرنے، مزید ارکان کی حمایت حاصل کرنے اور ممکنہ حکومت کی تشکیل اور پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کی مخالفت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام جماعتیں ایک مشترکہ حکومت بنانے پر بھی متفق ہیں۔ مختلف جماعتیں ان کی وزارت عظمیٰ جاری رہنے کی مخالفت تو کرسکتی ہیں، لیکن سلامتی، معیشت، سماجی امور اور سیاسی نظام میں عرب جماعتوں کے کردار جیسے معاملات پر ان کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہوسکتے ہیں۔

لہٰذا، اگر آیزنکوٹ مزید سیاسی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، تب بھی انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ حمایت ایک مستحکم اور قابل اعتماد پارلیمانی اکثریت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر، صرف وزیراعظم کی تبدیلی سے سیاسی تعطل ختم ہونا ضروری نہیں۔

عرب جماعتیں، اقتدار کی کنجی

حالیہ انتخابات کی اہم پیش رفتوں میں عرب جماعتوں کی نشستوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرنے کے بعد ان جماعتوں کی پارلیمانی حیثیت مضبوط ہوئی ہے اور حکومت سازی کے مذاکرات میں ان کا کردار زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ شائع ہونے والی اطلاعات بھی سابقہ پارلیمان کے مقابلے میں عرب جماعتوں کی نمائندگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ دونوں بڑے سیاسی دھڑوں میں سے کوئی بھی اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت نہیں رکھتا۔ ایسے حالات میں عرب جماعتوں کا مؤقف سیاسی حریفوں کے حساب کتاب پر اثرانداز ہوسکتا ہے اور ان کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

تاہم، عرب جماعتوں کی 19 نشستوں کو خودکار طور پر آیزنکوٹ کے دھڑے کی نشستوں میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ نیتن یاہو کی مخالفت کرنا، کسی مخصوص امیدوار کی وزارت عظمیٰ کی حمایت کرنا اور حکومتی اتحاد میں شامل ہونا تین الگ الگ معاملات ہیں۔

عرب جماعتیں آیزنکوٹ کی حمایت کرتی ہیں یا کوئی دوسرا سیاسی راستہ اختیار کرتی ہیں، اس کا انحصار آئندہ مذاکرات اور ان کے سیاسی فیصلوں پر ہوگا۔ انتخابی نتائج کی اہمیت اس بات میں ہے کہ عرب جماعتوں نے پارلیمان میں اپنا وزن بڑھا لیا ہے، جس کے باعث اقتدار کی سیاست میں ان کے کردار کو نظرانداز کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

وزیراعظم کے انتخاب کا طریقۂ کار

اسرائیل کے سیاسی نظام میں ووٹر براہ راست وزیراعظم کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ وہ سیاسی جماعتوں اور انتخابی فہرستوں کو ووٹ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پارلیمان کی تشکیل ہوتی ہے۔ انتخابی نتائج مکمل ہونے اور سیاسی مشاورت کا عمل شروع ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کون سا امیدوار حکومت تشکیل دینے کے زیادہ امکانات رکھتا ہے۔

مشاورت کے بعد صدر پارلیمان کے کسی رکن کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ ذمہ داری سب سے بڑی جماعت کے سربراہ ہی کو دی جائے، بلکہ بنیادی معیار یہ ہوتا ہے کہ کون سا امیدوار پارلیمانی ارکان کی مطلوبہ حمایت حاصل کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔

حکومت بنانے کی ذمہ داری ملنے کے بعد نامزد امیدوار کو عموماً 28 دن کے اندر اپنا اتحاد تشکیل دینا ہوتا ہے۔ صدر کی منظوری سے اس مدت میں مزید 14 دن کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

اگر پہلا امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو کسی دوسرے امیدوار کو یہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ اگر حکومت سازی کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو قانونی طریقۂ کار کے تحت دوبارہ انتخابات کی نوبت بھی آسکتی ہے۔

اس طرح انتخابی نتائج کے اعلان اور نئے وزیراعظم کے تعین کے درمیان سیاسی مذاکرات، جماعتوں کے درمیان سودے بازی اور اختلافات میں اضافے کا امکان موجود رہتا ہے۔

سیاسی بحران، دو چہروں سے آگے

حالیہ انتخابات کے نتائج کو صرف نیتن یاہو اور آیزنکوٹ کے درمیان مقابلے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی دھڑے واضح اور مستحکم اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس سے حکومت کی تشکیل اور فیصلہ سازی کا عمل پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

اس دوران عرب جماعتوں کی نشستوں میں اضافہ اور نیتن یاہو کے اتحاد کی پارلیمانی طاقت میں کمی اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں تبدیلی کی اہم علامتیں ہیں۔ تاہم، ان نتائج کی بنیاد پر نہ تو آیزنکوٹ کی قطعی کامیابی کا اعلان کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی نیتن یاہو کی اقتدار سے حتمی بے دخلی کو یقینی قرار دیا جاسکتا ہے۔

مجموعی طور پر، ان انتخابات نے فی الحال نہ نیتن یاہو کی کامیابی کو یقینی بنایا ہے اور نہ ہی آیزنکوٹ کے اقتدار میں آنے کا راستہ واضح کیا ہے۔ دونوں سیاسی دھڑے سنگین مشکلات سے دوچار ہیں اور آئندہ حکومت کا انحصار سیاسی مذاکرات، اتحادی معاہدوں اور عرب جماعتوں کے مؤقف پر ہوگا۔

جب تک کوئی ایک سیاسی دھڑا کم از کم 61 ارکان کی حمایت حاصل نہیں کرلیتا، حکومت سازی کے حوالے سے صورت حال غیر یقینی رہے گی۔ یہ سیاسی تعطل اسرائیلی سیاسی نظام میں عدم استحکام اور داخلی اختلافات کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔

News ID 1942453

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha