مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے ایران کے دفاعی اقدامات کو ’’جارحیت‘‘ قرار دیے جانے کے ردعمل میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے خطے میں پھیلی ہوئی افراتفری غیر قانونی مداخلتوں کا نتیجہ ہے، جن میں وہ مداخلتیں بھی شامل ہیں جن کی برطانیہ نے حمایت کی یا جن میں اس نے کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ برطانوی وزیرِ خارجہ کی جانب سے ایران کو ’’جارح‘‘ قرار دینا، جبکہ صرف نو ماہ کے دوران ایران کو دو مرتبہ فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا اور دونوں مرتبہ یہ حملے سفارتی مذاکرات کے دوران کیے گئے، حقائق کو انتہائی گھٹیا انداز میں الٹ کر پیش کرنے اور واضح طور پر جارح و مظلوم کی جگہیں بدلنے کے مترادف ہے۔ یہ مؤقف ایران کی قوم کے خلاف برطانیہ کی طویل تاریخ پر مشتمل معاندانہ سرگرمیوں میں ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے میں برطانیہ کا یہ مؤقف ایسا ہی ہے جیسے نازی جرمنی کو ’’امن کا محافظ‘‘ قرار دیا جائے اور دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو ’’جارح‘‘ کے طور پر پیش کیا جائے!
آپ کا تبصرہ