16 اکتوبر، 2026، 6:35 PM

نرس کا کردار، بعض دیگر طبقات کی مانند زندگی کو بحال کرنے اور امید پیدا کرنے والا ہے، رہبرِ انقلاب

نرس کا کردار، بعض دیگر طبقات کی مانند زندگی کو بحال کرنے اور امید پیدا کرنے والا ہے، رہبرِ انقلاب

حضرت زینب سلام الله علیہا کی ولادتِ باسعادت اور یومِ نرس کے موقع پر رہبر انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت زینب سلام الله علیہا کی ولادتِ باسعادت اور یومِ نرس کے موقع پر رہبر انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

رہبر انقلابِ اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ہر سال پانچ جمادی الاول ہمیں ایک ایسی خاتون کی ولادتِ باسعادت کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے الله تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے برتر ہستیاں پنجتنِ پاک صلوات الله و سلامه علیھم کی محبت، تربیت اور قربت کے سائے میں پرورش پائی۔ حضرت زینب کبریٰ سلام الله علیہا نے اس نورانی مکتب میں پچاس سال سے زائد عرصے تک تربیت پائی اور نشوونما حاصل کی۔ اس تربیت کے نتیجے میں ان کی درخشاں شخصیت میں شرافت اور برتری کی مختلف خوبیاں اس انداز میں جلوہ گر ہوئیں کہ وہ ہمیشہ اولیائے الٰہی کی تحسین، تعریف اور فخر کا باعث رہی ہیں۔ ان کی عظمت اپنے عروج پر معرکۂ عاشوراء میں پہنچی۔ ایک طرف میدانِ کربلا کے مظلوموں کے لیے بے پایاں شفقت، خیرخواہی اور صبر و تحمل کے ساتھ غم کا مظاہرہ کیا تو دوسری طرف استقامت اور شجاعت کی عظیم ترین علامتوں میں سے ایک بن کر سامنے آئیں۔

اسلامی تحریک اور انقلاب کی تاریخ ابتدا ہی سے ایرانی خواتین اور لڑکیوں کی زینبی کردار کے ساتھ میدان میں موجودگی کے مناظر سے بھری ہوئی ہے۔ اس معاملے میں ایرانی قوم کی بے مثال بیداری، تیسرے دفاعِ مقدس کے دوران رقم ہوئی، جس میں حیرت انگیز کیفیت اور وسعت پیدا ہوئی۔ آج اسلامی ایران کی زینبی خواتین مختلف میدانوں، بالخصوص شہروں اور دیہات میں ہونے والے اجتماعات میں بھرپور شرکت کے ساتھ، عملی طور پر حقائق واضح کرنے اور سخت جنگ کی اگلی صفوں کے پیچھے مزاحمت کرنے میں پیش پیش ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اپنے زمانے کے طاغوت، جو ہمیشہ اس قوم کو تکلیف، اذیت اور سرکوبی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، خود کو اس عظیم لشکر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں پاتے۔
اس سرزمین کے لوگوں نے، جو اہلِ بیت اطہار صلوات الله و سلامہ علیہم اجمعین سے والہانہ محبت رکھتے ہیں، حضرت زینب کبریٰ سلام الله علیہا کی ولادت کے دن کو ان کی مہربانی، دکھی انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور ہم زبانی اور ان کے لیے قربانی دینے کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے بجا طور پر نرسوں کے مقام کی تکریم کا دن قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی اخلاقی صفات اور انسانی اقدار محنت کش اور قابلِ قدر نرسنگ کے شعبے میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہیں۔
نرس کا کردار، بعض دوسرے طبقات مثلاً ڈاکٹروں، اساتذہ و مربّیوں، علماء اور امدادی کارکنوں کی طرح، زندگی کو بحال کرنے اور امید پیدا کرنے والا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات نرس کو رحمت کے فرشتے کی مانند دیکھا جاتا ہے؛ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ درد اور تکلیف میں مبتلا افراد کی بدخلقی اور بے صبری کے باوجود ان کے لیے سکون، امید، صحت یابی اور علاج کے اسباب فراہم کرتے ہیں اور یوں رحمتِ الٰہی کے نزول کا ذریعہ بنتے ہیں۔
البتہ مریضوں کے علاج میں نرسوں کا کردار ڈاکٹروں کے برعکس مسلسل، مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ موجود رہنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس طرح کی موجودگی کے اثرات جسمانی امور سے کہیں آگے تک پہنچتے ہیں۔ یہ نفسیاتی اور روحانی تکالیف کے لیے مرہم ثابت ہوتے ہیں اور بہت سے مواقع پر مایوسی کو غالب آنے سے روکتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے نرس اپنی ہمدردانہ خدمات انجام دے کر ایسے کام بھی انجام دیتے ہیں جو ڈاکٹروں کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
ایسے دور میں، جب استکبار کا خبیث نیٹ ورک آزاد اور مزاحمت کرنے والی قوموں، بالخصوص ایرانی قوم پر ہر قسم کے ظلم و جرائم مسلط کرنے کی کسی کوشش سے دریغ نہیں کر رہا اور علاج معالجے اور ادویات سے متعلق مختلف پابندیاں عائد کرکے ایرانی عظیم قوم پر مزید تکالیف مسلط کرنا چاہتا ہے، نرسوں پر توجہ دینا، نرسنگ کے شعبے کو مضبوط بنانا اور نرسوں کے علم، مہارت، صلاحیت، نشاط، جذبے اور وقار کو محفوظ رکھنے اور بہتر بنانے کی کوشش کرنا نہایت اہم ہے۔ بالخصوص ان نرسوں کے لیے یہ توجہ ضروری ہے جنہوں نے خود کو غیر نجی اداروں میں خدمات انجام دینے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان اقدامات کے معاشرے کی جسمانی و روحانی صحت اور سلامتی پر اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے توقع کی جاتی ہے کہ صحت کے شعبے کے حکام اپنی ذمہ دارانہ روش کو جاری رکھتے ہوئے ان اہم امور کو ترجیحات میں شامل کریں گے۔
میں ان دونوں مناسبتوں کے موقع پر اپنی عزیز قوم، اسلامی وطن کی فرض شناس اور بلند عزم خواتین اور بالخصوص نرسنگ کے شعبے سے وابستہ اپنی بہنوں اور بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں، نرسنگ کے شعبے کے مظلوم اور جان نثار شہداء، بالخصوص دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں اور دسمبر 2025 کے فتنے میں شہید ہونے والے نرسوں کے لیے رحمتِ الٰہی کا طلب گار ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے مولا امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا کے طفیل، اللہ تعالیٰ ایرانی قوم کو مزید عزت و اقتدار اور ہر وہ چیز عطا فرمائے گا جو حضرت زینب سلام الله علیہا کے مکتب کی پیروی کے شایانِ شان ہے۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
16 اکتوبر 2026

News ID 1942157

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha