مہر خبررساں ایجنسی کی کے مطابق، ریاض کے ہوائی اڈے اور آرامکو کی تنصیبات پر حملوں نے پڑوسی ملک سے لاحق خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان حملوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ مقام کے طور پر سعودی عرب کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے، ایسے وقت میں جب ریاض اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور تیل پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روئٹرز نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے ہے کہ خلیجِ فارس کے خطے میں امریکہ کے اہم اتحادیوں میں سے ایک کو آج جس صورتِ حال کا سامنا ہے، وہ کئی برسوں کے دوران تشکیل پائی ہے۔
ان ماہرین کے مطابق، ایران نے یمن کی تحریک انصارالله کو جدید ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال میں تقریباً خودکفالت کی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں مقامی سطح پر فوجی اور صنعتی صلاحیتیں وجود میں آئی ہیں، جنہیں سازوسامان کی براہِ راست فراہمی کے راستوں میں خلل پڑنے کی صورت میں بھی آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ انصارالله کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ہی خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کو اپنے فضائی دفاعی نظاموں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ