مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نیویارک پہنچنے کے بعد ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران ہورہا ہے، جبکہ ملک بدستور جنگی حالت میں ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اس صورتحال میں ایران کا سب سے اہم مقصد ایک بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ایرانی عوام کے حقوق، مفادات اور حقانیت کا دفاع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا کا سب سے بڑا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔ یہ ادارہ امن، سلامتی اور انصاف کے قیام کے اپنے اہداف میں کس حد تک کامیاب رہا ہے، یہ الگ بحث ہے، تاہم مختلف ممالک کو اپنی پالیسیوں اور مؤقف کو دنیا تک پہنچانے کے لیے جو پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، وہ ایران کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع سے اپنے مؤقف اور ایرانی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے استفادہ کرتا ہے، تاہم اس سال جنگ کے بعد یہ پلیٹ فارم ایرانی عوام، شہدا اور خاص طور پر میناب اسکول کے شہدا کے حالات بیان کرنے کے لیے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور مختلف ایرانی و غیر ایرانی دانشوروں، میڈیا نمائندوں اور مفکرین سے ملاقاتیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر پزشکیان مختلف ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز بھی دیں گے اور مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ خود بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے، جو دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے، ایران کے مؤقف کو بیان کرنے اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ایک مناسب موقع ہوگا۔
عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس سال کے نعرے ’’اقوام متحدہ پر اعتماد کی بحالی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نعرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تمام ممالک اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ عالمی ادارے پر اعتماد کم ہوگیا ہے۔ اعتماد میں کمی کی ایک وجہ عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اس ادارے کی ناکامی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض ممالک اپنے لیے یہ حق سمجھتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں اور کسی بین الاقوامی ادارے، قانون یا عالمی ضمیر کو خاطر میں نہ لائیں۔ اسی صورتحال کے باعث اسرائیل کو کارروائیاں کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے جبکہ مغربی اور یورپی ممالک، جو خود کو انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے علمبردار قرار دیتے ہیں، ان کارروائیوں کے مقابلے میں خاموش ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ فلسطین، غزہ، لبنان اور ایران میں ہونے والے واقعات پر ان ممالک کی جانب سے کوئی سنجیدہ مذمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے میناب میں 168 بے گناہ بچوں کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات پر بھی مذمت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ایسے ادارے پر اعتماد برقرار رہنا مشکل ہے جو ان ممالک کے اثر و رسوخ میں ہو، اس لیے اقوام متحدہ پر اعتماد کی بحالی ایک اہم موضوع ہے اور نیویارک کا اجلاس اس بات پر دنیا سے گفتگو کا موقع فراہم کرتا ہے کہ عالمی ادارے پر اعتماد کیوں ختم ہوا اور اسے دوبارہ کیسے بحال کیا جاسکتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ صدر پزشکیان اور ایرانی وفد کی دیگر سرگرمیوں میں ماحولیاتی مسائل سے متعلق سربراہ اجلاس بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم، عدم وابستہ تحریک اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے اجلاس بھی ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ مختلف ممالک کے رہنما اور حکام نیویارک میں موجود ہوں گے، اس لیے دوطرفہ ملاقاتیں ایران کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہوں گی۔ ایرانی وفد چار سے پانچ روزہ مصروف پروگرام کے دوران ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرے گا۔
آپ کا تبصرہ