روس کی یوکرین جنگ میں اسرائیل کے غیر تعمیری موقف اور اقدامات پر شدید تنقید

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے آج منگل کے دن اپنے بیان میں یوکرین جنگ میں صہیونی رجیم کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے آج منگل کے روز انٹرنیشنل جیوش ایجنسی کی روس میں سرگرمیاں معطل کرنے متعلق کہا کہ یہ ایک قانونی مسئلہ ہے جس کا فی الحال جائزہ لیا جارہا ہے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے نے حالیہ مہینوں کے دوران اور خاص طور پر یوکرین کی جنگ کے حوالے سے صہیونی رجیم کے غیر تعمیری موقف اور تل ابیب کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے افسوس ناک قرار دیا۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مشخص طور پر صہیونی رجیم کی یوکرین کو امداد کا ذکر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ رات صہیونی رجیم کے سرکاری چینل ﴿کان﴾ نے ایک رپورٹ میں منتشر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ تل ابیب نے یوکرین میں امدادی رسانی کے قالب میں اپنی سرگرمیوں میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق صہیونی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پہلی بار سرکاری بجٹ کو یوکرین میں سرگرم غیر عسکری امدادی تنظیموں کے حوالے کیا ہے۔ اب تک صہیونی رجیم کی وزارت خارجہ اس سلسلے میں براہ راست خود ہی سرگرم رہی ہے، تاہم اب اس نے فیصلہ کیا ہے یوکرین میں سرگرم ۹ سول تنظیموں سے جا ملے گی اور ریاستی بجٹ کو براہ راست ان کے حوالے کرے گی۔

صہیونی وزارت خارجہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انٹرنیشنل جیوش ایجنسی کی سرگرمیوں کی معطلی کے معاملے میں ماسکو اور تل ابیب کے مابین جاری سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے۔ گزشتہ رات عبری ذرائع نے خبر دی تھی کہ لائیر لپیڈ روس کے حالیہ اقدام کے سلسلے میں جوابی اقدامات اور جیوش ایجنسی کے دفتر کی ماسکو سے تل ابیب منتقلی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

News Code 1911719

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha