بچوں کے لئے سن2014 خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوا

مہر نیوز/8 دسمبر/ 2014 ء : اقوام متحدہ نےاپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2014 کا سال دنیا بھرمیں جاری مختلف لڑائیوں اور فسادات کے باعث بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد بچے متاثر ہوئےہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہاقوام متحدہ نےاپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2014 کا سال دنیا بھرمیں جاری مختلف لڑائیوں اور فسادات کے باعث بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد بچے متاثر ہوئےہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق وسطی افریقہ، عراق، جنوبی سوڈان، شام، یوکراین اور فلسطین میں جاری فسادات اور لڑائیوں میں ایک کروڑ 50 لاکھ بچے متاثر ہوئے، یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاکہنا تھا کہ پاکستان، عوامی جمہوریہ کانگو، نائجیریا، صومالیہ، سوڈان اور یمن میں بھی یہ سال تباہ کن رہا ، 23 کروڑ سے زائد بچے ان ممالک میں رہتے ہیں جو جنگوں اور فسادات کا شکار ہیں، ان بچوں میں سے اکثر یا تو اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران یا پھر گھروں میں سوتے ہوئے حملوں کا نشانہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک میں فسادات اور لڑائیوں کے دوران کئی بچے یتیم ہوگئے جب کہ متعدد کو اغوا کے بعد تشدد اورجنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور کئی بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا گیا، دنیا بھر میں بچے ایسی بربریت کا شکار ہوئے جس کی مثال نہیں ملتی، مغربی افریقہ اور سری لیون میں ایبولا وائرس کے باعث ہزاروں بچے یتیم ہوئے جب کہ 50 لاکھ سے زائد اسکول جانے سے محروم ہوگئے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونیسیف کے مطابق وسطی جمہوریہ افریقہ میں جاری خانہ جنگی میں 23 لاکھ بچے متاثر ہوئے جس میں سے 10 ہزار بچوں کو مسلح گروپوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جب کہ 430 جان کی بازی ہار گئے، فلسطین میں 538 بچے اسرائیلی حملوں اور بربریت کا شکار ہوئے جب کہ 3370 زخمی اور سیکڑوں ماں باپ کی شفقت سے محروم ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ شام میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں سے 73 لاکھ بچے متاثر ہوئے جن میں سے 17 لاکھ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، عراق میں 27 لاکھ بچے متاثرہوئے جن میں سے 700 اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ جنوبی سوڈان میں 7 لاکھ 50 ہزار بچے متاثر ہوئے جن میں سے 3لاکھ 20 ہزار بے گھر ہوکر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

News Code 1845867

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha