ویانا معاہدہ گروپ1+5  کے لئے اہم امتحان ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ویانا میں گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان جامع اور تاریخی معاہدے کے بعد ٹی وی پر براہ راست قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 12 سال میں آج ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے ویانا میں ہونے والا معاہدہ گروپ 1+5 کے لئے اہم امتحان ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ویانا میں گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان جامع اور تاریخی معاہدے کے بعد ٹی وی پر براہ راست  قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 12 سال میں آج ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے اور ویانا میں ہونے والا معاہدہ گروپ 1+5 کے لئے اہم امتحان ہے۔ صدر نےکہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ خیر و سعادت اور برکت کا مہینہ ہے اورایٹمی معاملے کے بارے میں اس مہینے میں عوام کی دعائیں مستجاب ہوگئی ہیں۔ اور ایرانی قوم کے سفارتکاروں نے ایک تاریخی اور اچھے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی فتوے کے مطابق اور انسانی و اخلاقی بنیادوں کے پیش نظرایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں تھا اور ایران کو اس سلسلے میں دبانے کی بلاوجہ کوششیں کی گئيں اور علاقائی ممالک کو ایران سے ڈرانے کی بے بنیاد سازشیں کی گئيں لیکن ایرانی حکام نے سنجیدگی اور اپنی تمام توانائیوں کو بروی کار لاتے ہوئے آج ثابت کردیا ہے کہ ایران پرامن ایٹمی پروگرام کی تلاش میں ہے اور ایران کسی بھی ہمسایہ ملک کے لئے خطرہ نہیں ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اس معاہدے کی بنا پر عالمی ایٹمی بلاک میں شامل ہوگیا ہے اور اس معاہدے کے مطابق عالمی برادری بالخصوص گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان  روابط کے نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کے دانشوروں اور سائنسدانوں کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں اور ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو ملک کے اندر حفظ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ صدر نے کہا کہ اس معاہدے کے مطابق ایران کے خلاف سکیورٹی کونسل کی 6 قراردادوں میں لگائی گئی پابندیاں ایک دوسری قرارداد کے ذریعہ ختم ہوجائیں گی۔

News Code 1856610

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha