مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خلیج فارس کی چار شیخ نشین ریاستوں کے دورے کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا پہلا مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھنا تھا۔ دوسرا مقصد توانائی کی فراہمی کے معاملے کا جائزہ لینا اور تیسرا مقصد تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے اور بحری جہازوں کی آمدورفت کے اخراجات کم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں توانائی کی فراہمی کے اخراجات کم کرنے کے حوالے سے ہم اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے زور دے کر کہا کہ علاقائی بحران کے حوالے سے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے منقطع نہیں ہوئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس کشیدگی میں کمی لانے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور سعودی عرب سمیت پورے خطے کی سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
لبنان کی صورت حال کے بارے میں میکرون نے کہا کہ فرانس اس ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور لبنانی فوج کی حمایت کرتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے حزب الله کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی جنوبی لبنان سے غاصب صیہونی حکومت کے انخلا پر بھی زور دیا۔
میکرون نے مزید کہا کہ فرانس، لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج (یونیفیل) کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اٹلی اور دیگر بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ تہران آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں اپنا جواب دے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشیدگی کو دوبارہ مسلح تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے کوششیں دوگنی کرنا ضروری ہیں۔
میکرون نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی کشیدگی میں مزید اضافے کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
میکرون نے اپنے ملک کی داخلی صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم فرانس میں مظاہروں اور پُرتشدد کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے ہفتے سے اقدامات شروع کریں گے۔
فرانسیسی صدر نے دعویٰ کیا کہ بیرونی فریقوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مناظر اور تصاویر میں جعل سازی کرکے فرانس میں ہونے والے مظاہروں میں مداخلت کی ہے۔
آپ کا تبصرہ