مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں یمنی سفیر ابراہیم محمد الدیلمی نے اسلامی موتلفہ پارٹی کے مرکزی دفتر میں اس پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد علی امانی سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور جماعتی روابط کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ہوئی، جس میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالم اسلام کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یمن کے سفیر نے ملاقات کے ایک حصے میں ’’موتلفہ‘‘ نام اور اس کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لفظ ’’موتلفہ‘‘ فارسی میں ایک معنی رکھتا ہے اور ہمارے لیے عربی میں اس کا ایک معنی ہے؛ یعنی ہم آہنگی اور دلوں کا باہم جڑنا۔ ہم یمن میں آپ کو اپنے سے جڑے ہوئے دلوں میں شمار کرتے ہیں۔ رسولِ اسلامؐ نے فرمایا کہ جب روحیں ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں تو ایک دوسرے کے قریب ہو جاتی ہیں اور ہم یمن میں ان لوگوں میں سے ہیں جن کے دل اور روحیں آپ کے ساتھ موتلف ہو چکی ہیں۔
انہوں نے حزب اللہ لبنان کے سابق سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی برسی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہید سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے ایام میں ہیں اور دس سال قبل انہوں نے ایک اجلاس میں مجھ سے فرمایا تھا کہ دنیا کے لوگ آیت اللہ خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی قدر و منزلت کو نہیں جانتے۔ اب واحد چیز جو ہمیں شہید رہبر کے حوالے سے تسلی دیتی ہے، وہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ’’حفظہ اللہ‘‘ کی جانشینی ہے اور اب عالم اسلام میں بھی ان کی قدر و منزلت کو پہچاننا چاہیے؛ کیونکہ ایران کی ہر شکست یا پسپائی اسلام کے لیے شکست اور سلامتی کے خاتمے کے مترادف ہے۔
یمنی سفیر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امتِ اسلامی بڑی تبدیلیوں کے راستے پر گامزن ہے، واضح کیا کہ ہم ایک بڑی فتح اور بڑی کشادگی کے قریب ہیں اور اس معاملے کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اسلامی موتلفہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد علی امانی نے بھی یمنی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی گہرائی پر زور دیا اور کہا کہ یمن کے عوام کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور اس ملک میں انسانی بحران کے خاتمے کی ضرورت ایران کا اصولی مؤقف ہے۔
ملاقات میں اسلامی موتلفہ پارٹی کی جانب سے یمن کے عوام کی جدوجہد کے اعتراف میں تحریری خراجِ تحسین بھی یمنی سفیر کو پیش کیا گیا۔
اس کے بعد دونوں جانب سے یمن کی تازہ ترین صورتحال، خطے کے حالات، مسئلہ فلسطین اور اقتصادی و ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو اور تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر اسلامی موتلفہ پارٹی اور یمن میں اس کے دوستوں کے درمیان مشاورت اور مشترکہ ملاقاتوں کے سلسلے کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
آپ کا تبصرہ