مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی تبلیغاتی مرکز کے سربراہ حجت الاسلام محمد قمی نے شہید علامہ سید حسن نصرالله کی فکر کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے شہید سید حسن نصرالله کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ سید حسن نصرالله کے بارے میں ایک عمر تک گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن رہبرِ انقلابِ اسلامی کے بقول، وہ ’’عرب کے ہیرو کمانڈر‘‘ اور محاذِ مزاحمت کی علامت تھے؛ ایسی شخصیت کہ سرزمینِ شام کی تاریخ میں انبیاء اور اوصیاء کے بعد کوئی بھی ان کی عظمت کا حامل بن کر سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ضرورت صرف اس شہید کو یاد کرنے، ان کی سیرت و شخصیت کو بیان کرنے اور ان کے وجودی پہلوؤں، عظمت اور شجاعت کو اجاگر کرنے تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ ہمیں اس راستے کی وضاحت کرنی چاہیے جو اس عظیم شخصیت نے انسان اور انسانیت کے سامنے رکھا، یعنی مزاحمت کا راستہ۔
حجت الاسلام قمی نے مزید کہا کہ اگر ہم اس مزاحمت کی راہ کے علمبردار مجاہد اور بہادر انسان کی سیرت اور شخصیت بیان کریں تو شاید ہم اپنی ذمہ داری کا ایک حصہ ادا کر چکے ہوں؛ لیکن شہید نصرالله نے ان تمام برسوں کے دوران کوشش کی کہ مزاحمت کو محض ایک انتخاب کے طور پر نہیں، بلکہ ایسے واحد راستے کے طور پر پیش کریں جو انسان کو ترقی اور عزت تک پہنچا سکتا ہے اور اس کی وضاحت عقلی دلائل اور قرآنی تعلیمات کے استناد سے کریں۔
اسلامی تبلیغاتی مرکز کے سربراہ نے شہید نصرالله کی رہبرِ انقلابِ اسلامی سے محبت اور عقیدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شہید نصرالله کے قریبی ساتھیوں اور عزیزوں میں سے ایک سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا تھا: میں نے خدا سے دعا کی ہے کہ میری باقی زندگی لے لے اور اسے رہبرِ انقلابِ اسلامی کی عمر میں شامل کر دے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ شہید نصرالله کی جانب سے انجام دیے گئے بہت سے اقدامات افسانوی داستانوں جیسے تھے، کہا کہ وہ مزاحمت کی ضرورت اور اس کے فوائد کی وضاحت کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کی اس کارکردگی کے پیچھے ایک فکر، زندگی اور اعلیٰ ثقافت موجود تھی۔
حجت الاسلام قمی نے کہا کہ شہید نصرالله مزاحمت کی فکری بنیادوں کی وضاحت اور پیروی کرتے تھے، جن کی بنیاد پر امام خمینیؒ نے ایک نیا فکری و عملی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا، اور آج ضرورت ہے کہ اس فکر پر پہلے سے زیادہ توجہ دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس شخصیت اور ان کی فکر کے بارے میں بہت سے آثار اور تحقیقی کام سامنے آنے چاہئیں اور ان آثار کے مخاطب صرف داخلی سامعین نہیں ہونے چاہئیں بلکہ بین الاقوامی مخاطبین کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اسلامی تبلیغاتی مرکز کے سربراہ نے آخر میں شہید نصرالله کے لیے ’’علامہ‘‘ کی تعبیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ تعبیر پسند ہے، لیکن میرے خیال میں اس بزرگ سید کی شخصیت کا ایک نظرانداز شدہ پہلو یہ ہے کہ ان کے پاس انسانیت کے لیے مزاحمت کے حوالے سے ایک نئی بات تھی اور اس فکر کو درست طور پر بیان اور واضح کیا جانا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ